menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

متاعِ صحافت۔ قابل ِ فخر ”سکوپ“! (1)

29 0
23.07.2026

فروری 1982ء کے تیسرے ہفتے کا پہلا روز تھا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی مارشل لاء کے عروج کا زمانہ تھا، مختلف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ سیاسی رہنما پابند ِ سلاسل تھے۔ان میں اس دور کی پاکستان جمہوری پارٹی کے صدر اور ملک کے نامور سیاست نوابزادہ نصر اللہ خان کو بھی جمہوری سرگرمیاں جاری رکھنے کے جرم میں اُن کے گھر واقع خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔ اس نظر بندی کو کئی ماہ گزر چکے تھے۔دوسرے نظر بند سیاسی رہنماؤں کی طرح نوابزادہ نصر اللہ خان کے حوالے سے کسی بھی نوعیت کا بیان اخبارات میں شائع نہیں ہو رہا تھا، کیونکہ مارشل لاء کے اعلیٰ ترین حکام کی طرف سے ان کے حالات و واقعات کے حوالے سے کسی قسم کی خبر شائع کرنے پر سخت پابندی عائد کر رکھی تھی۔

نوابزادہ نصر اللہ خان کے آبائی گاؤں خان گڑھ میں اُنہیں اقامت گاہ کے جس الگ تھلگ حصے کو مارشل لاء حکام نے سب جیل قرار دے کر نظر بند کیا گیا اس کے اردگرد مسلح سکیورٹی فورس،ایجنسیوں اور پولیس کے اہلکاروں پر مشتمل چوکیاں قائم تھیں اور اقامت گاہ کے اردگرد اندھیری  راتوں کو چکا چوند اجالے فراہم کرنے کی غرض سے سرچ لائٹوں کا ز بردست انتظام کیا گیا تھا۔ بظاہر تو ”سب جیل“ قرار دی گئی جگہ تک پرندے کا پَر مارنا بھی دشوار کر دیا گیا تھا۔یہی وجہ تھی کہ اندرون ملک اور بیرونی دنیا........

© Daily Pakistan (Urdu)