قربانی کا فلسفہ: امت ِ مسلمہ کا عظیم ترین اجتماع!
حج بیت اللہ صرف ایک عبادت کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات کے سب سے بڑے انسانی اجتماع، اتحادِ امت اور بندگی کا وہ والہانہ اظہار ہے جس کی نظیر دنیا کا کوئی دوسرا مذہب یا تہوار پیش کرنے سے قاصر ہے۔ جب ذوالحج کا چاند اُفق پر نمودار ہوتا ہے، تو دنیا کے گوشے گوشے سے لاکھوں مسلمان اپنے جغرافیائی، لسانی، اور نسلی اختلافات کو پس ِ پشت ڈال کر ایک ہی رنگ، ایک ہی لباس اور ایک ہی فرض کی ادائیگی کے تحت ارضِ مقدس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فضاؤں میں جب ”لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک“ (میں حاضر ہوں اے اللہ، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں) کی روح پرور صدائیں گونجتی ہیں، تو یوں لگتا ہے جیسے زمین و آسمان یکجا ہو گئے ہوں۔ احرام کی دو سفید چادروں میں لپٹا ہوا ہر حاجی، خواہ وہ وقت کا بادشاہ ہو یا کوئی مفلس و قلاش، ایک ہی صف میں کھڑا نظر آتا ہے۔ یہ منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اسلام میں رنگ، نسل یا دولت کی کوئی اہمیت نہیں، فضیلت کا معیار صرف اور صرف تقویٰ ہے۔
حج کے انہی مقدس و مبارک دنوں کے ساتھ ہی دنیا بھر میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی تہوار ”عید ِ قربان“ یا عید الاضحی منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار جہاں ایک طرف مناسک ِ حج کی تکمیل کی خوشی ہے، تو دوسری طرف یہ تاریخِ........
