بجٹ میں عوام بڑی عیدی کے منتظر
مکہ مکرمہ میں بیٹھ کر کالم لکھنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے تین دن بعد مناسک حج کا آغاز ہو رہا ہے اور پانچ دن بعد سعودیہ اور پاکستان میں عید ایک ساتھ منائی جانے والی ہے دنیا بھر سے آئے ہوئے عازمین حج سے ملاقاتوں میں ایک بات ہی زیر بحث ہے پاکستان میں مہنگائی کہاں تک جائے گی، مشکل ترین حالات سے دوچار عوام سے چند ہفتوں میں 1200ارب روپے لیوی کی مد میں حاصل کرنے والی حکومت آئندہ دو ماہ میں 1600ارب تک کے حصول کے لئے پُرامید ہے۔ عید قربان اس لحاظ سے بھی انفرادیت کی حامل ہوتی ہے اس میں جانور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سنت کے مطابق قربان کیے جاتے ہیں،مہنگائی کی زد میں روزمرہ استعال کی اشیاء ہی نہیں آئیں قربانی کے جانور بھی پہنچ سے دور ہو گئے ہیں۔
عجیب تماشا لگا ہوا ہے لاہور کی مثال دے سکتا ہوں کسی بھی پٹرول پمپ پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت یکساں نہیں ہے جب پوچھا جاتا ہے ان کا جواب اوپر سے یہی ریٹس آئے ہیں وہی بورڈ پر چسپاں ہیں وہی وصول کرتے ہیں حکومت اگر414 روپے کرتی ہے پٹرول پمپوں پر 416، 418 حتیٰ کہ 420 تک وصولی دھڑلے سے جاری ہے، بات دوسری طرف چلی گئی بڑی عید آ رہی ہے لوگ حکومت سے بڑی عیدی کی اُمیدیں لگا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر میاں نواز شریف کے نام سے لگائی گئی پوسٹیں یقینا فیک ہوں گی، مگر ہیں بڑی خوش آئند، جن میں میاں محمد نواز شریف عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے فرما رہے ہیں میں نے شہباز کو کہہ دیا ہے کہ پٹرول فوری 300 روپے سے........
