menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

بچت کریں مگر زندگی کو چلنے دیں

11 0
29.03.2026

پٹرول اور ڈیزل کی بچت کا بڑا شور ہے۔ کل شہباز شریف وزیراعظم پاکستان نے پھر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا 58ارب روپے کا بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی، قیمتیں برقرار رہیں گے، یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ پٹرول و ڈیزل کی ایپ کے ذریعے راشن بندی کی جانے والی ہے، مگر اس طرح کی خبروں میں جب یہ خبر آتی ہے کہ وزیراعظم شہبازشریف کراچی میں 37گاڑیوں کے قافلے کی صورت فریال تالپور اور شیری رحمن کے گھر گئے تو پھر تنقید بھی شروع ہو جاتی ہے۔ میں  آج سے نہیں بلکہ ہمیشہ سے یہ سوچتا آیا ہوں کہ وزیراعظم، صدر،وزیراعلیٰ یا گورنروں کے ساتھ یہ جو پروٹوکول کا قافلہ چلتا ہے، اس کا ان شخصیات کو علم بھی ہوتا ہے؟ میں نے جب وزیراعظم شہباز شریف کے کراچی میں گھومنے والے قافلے کو غور سے دیکھا تو مجھے چند گاڑیاں تو سیکیورٹی کی لگیں، جن میں پولیس کی گاڑیاں بھی شامل تھیں۔ باقی گاڑیوں میں کون تھے اور کیوں اس قافلے میں شامل تھے،اس کاپتہ نہیں چلتا۔ شاید مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور سربراہ بھی اس قافلے میں شامل ہو جاتے ہیں کہ مبادہ کوئی سوال پوچھ لیا جائے یا وزیراعظم کو ضرورت پڑ جائے،اب ساری تنقید وزیراعظم شہبازشریف پر ہو رہی ہے کہ ایک طرف وہ سادگی اور کم سے کم پٹرول خرچ کرنے کا درس دے رہے ہیں دوسری طرف خود ان کا قافلہ 37 گاڑیوں پر مشتمل ہوتا ہے،اس داخلہ اور پروٹوکول کے محکمے کو کوئی نہیں پوچھتا نہ کہتا ہے جو سادگی کی بجائے وی وی آئی پی شخصیات کے قافلے کو گاڑیوں کے میلے میں تبدیل کر دیتا ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اتنا بڑا قافلہ گزرنے میں کافی وقت لگتا ہے،لوگ اس کی آمد سے پہلے ہی بند راستوں پر کھڑے پیچ و تاب کھاتے نظر آتے ہیں ابھی دو دن پہلے ایک ویڈیو دیکھی، جس میں نیدر لینڈ کے وزیراعظم اپنی مدتِ اقتدار پوری ہونے کے بعد چارج چھوڑ کر سائیکل پر اپنے گھر روانہ ہوتے ہیں ایسے مناظر کا خیر ہم اپنے ہاں تصور نہیں کر سکتے لیکن یہ جو تیس بے مقصد اور بلاضرورت گاڑیاں وزیراعظم یا صدر کے قافلے میں شامل ہوتی ہیں انہیں تو ختم کیا جا سکتاہے۔ اب ظاہر ہے ایسی تمام گاڑیوں کا پٹرول سرکاری خزانے سے ڈلوایا جاتاہے پھر ان قافلوں کی وجہ سے لوگ بعض ایک گھنٹہ تک راستہ نکلنے کے انتظار میں کھڑے رہتے ہیں، وہاں بھی ان کا پٹرول ضائع ہورہا ہوتا ہے، تھوڑی سی اچھی مینجمنٹ سے انتظامیہ صورتِ حال کو قابلِ اعتراض کی بجائے قابلِ ستائش بنا سکتی ہے، مگر نہیں صاحب، ایساکوئی کام ہمارے ادارے نہیں کرتے،جو پروٹوکول بک انگریز کے زمانے سے بنی ہوئی ہے، اس پر من و عن نہیں بلکہ آنکھیں بند کرکے عملدرآمد کرنا ہے۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ پٹرول و ڈیزل کو بچانے کے لئے جو اقدامات کئے گئے۔ سرکاری افسروں کا پٹرول کم کیا گیا، گاڑیوں کے غیر سرکاری استعمال پر پابندی لگائی گئی، دفاتر میں ائرکنڈیشنڈ کے بے دریغ استعمال کو روکا گیا، کیا ان سب باتوں پر عملدرآمد کے لئے کوئی مانیٹرنگ نظام بھی بنایا گیا ہے، ابھی دو گھنٹے پہلے میں نے ایک سرکاری افسر کے قافلے کو دیکھا ہے، سات گاڑیوں کے جلو میں موصوف دفتر جا رہے تھے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اپنے ہی شہر میں یہ افسر اس قدر عدم تحفظ کا شکار کیوں ہوتے ہیں، کیا ایک پولیس کی گاڑی ان کے آگے چلنے کے لئے کافی نہیں، اب اگر بڑے افسر ہی پابندی نہیں کریں گے تو ان کے نیچے کے افسروں کو کیا پڑی ہے کہ وہ سادگی اپنائیں، یہ جتنے بھی فیصلے اور اقدامات کئے گئے ہیں، ان سے افسر متاثر ہوئے ہیں اور نہ وزیر وزراء، ان سے صرف عوام متاثر ہوئے ہیں دفتروں کے تین دن بند ہونے سے رشوت کے ریٹ بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر ارجنٹ کام کرانے والے بُری طرح پھنس گئے ہیں،  وہ پیسے نہ دیں تو کام نہیں ہوتا، کیونکہ ورک فراہم ہوم اور دن کم ہونے کا بہانہ عوام کے سینے پر مونگ دلنے کے لئے تیز بہدف نسخہ بن گیا ہے۔ عدالتوں کی تین دن بندش نے تو انصاف کے رہے سہے نظام کو بھی مفلوج کرکے رکھ دیا ہے،روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے لوگ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ سب سے بڑا اور متنازعہ فیصلہ تعلیمی اداروں کی بندش کا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں پہلے ہی تعلیمی سال صرف ڈیڑھ پونے دو سو دنوں پر مشتمل ہوتا ہے اس طرح طالب علموں کا وقت ضائع کرنا دانشمندی نہیں۔ یہ موسم طلبہ و طالبات کے اگلی جماعتوں میں جانے کا ہے۔ امتحانات ہوتے ہیں اور اپریل کے آغاز میں نئی کلاسیں شروع ہو جاتی ہیں مگر اس عمل کو روک دیا گیا ہے، ایک گومگوں کی کیفیت نے طلبہ اور اساتذہ کو حصار میں لیا ہوا ہے  پھر جب آپ بغیر منصوبہ بندی کے سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں تو سارا عمل ایک بڑے نقصان کے باعث بن جاتا ہے۔دیہی علاقوں کے سکولوں میں بچے نہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی موٹر سائیکل وغیرہ،زیادہ سے زیادہ  سائیکلوں پر آتے ہیں یا پیدل۔ جنگی بنیادوں پر یہ پابندی بھی لگائی جا سکتی تھی کہ بچوں کو سکول چھوڑنے والے والدین پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں سے مل کر بڑی تعداد میں چلایاجا سکتا تھا۔ چرچل نے عالمی جنگ کے دوران برطانیہ کے بارے میں کہا تھا اگر وہاں کی عدالتیں کھلی ہیں اور انصاف دے رہی ہیں تو اسے کوئی شکست نہیں دے سکتا جبکہ ژاں پال سارترنے کہا تھامعاشرے میں تعلیمی اداروں کا کھلا رہنا پورے  معاشرے کو آکسیجن اور پانی فراہم کرنے کے مترادف ہے اس سے معاشرہ زندہ اور بیدار رہتا ہے۔ سنا ہے حکومت یکم اپریل سے  تعلیمی ادارے کھولنے کے معاملے میں ابھی تذبذب کا شکار ہے، اس تذبذب کو ختم ہونا چاہیے اور تعلیمی اداروں کو مزید بند رکھنے کے کسی بھی فیصلے کی تائید نہیں کی جانی چاہیے، نئی نسل کے لاکھوں بچوں کے جو کروڑوں گھنٹے ضائع ہو رہے ہیں، وہ ایک بہت بڑا ضیاع ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ عوام بھی اس صورتِ حال میں اپنا حصہ ڈالیں یہ جو مارکیٹوں اور سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں نظر آتی ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو کسی ناگزیر ضرورت کے باعث باہر نکلے ہوئے ہوتے ہیں جب تین دن دفاتر بند ہوتے ہیں تو سڑکوں پر رش کیوں ہوتا ہے، یہ فارغ رہنے سے اُکتانے والے پکنک منانے، گاڑیاں دوڑانے اور ایندھن کو دھوئیں میں اڑانے کے سوا کرتے ہی کیا ہیں۔ بلا ضرورت اور بلا مقصد گاڑی اور موٹرسائیکل نکال کے شہر کی سڑکوں پر مٹرگشت کرنے کا یہ دور نہیں،اب جب پٹرول کی راشن بندی ہو جائے گی تو پھر مجبوراً گھر بیٹھنا پڑے گا، لیکن اپنا فرض سمجھ کے کام کرنے میں جو راحت ملتی ہے، اس کا اندازہ یہاں ہر شخص کو نہیں ہے۔ حل یہ نہیں کہ سب کچھ بند کرکے بچت کریں، حل یہ ہے کہ سب کام بھی چلتے رہیں اور بچت بھی ہو۔ یہ صرف حکومت کے اقدامات سے نہیں ہو سکتا اس کے لئے پوری قوم کو اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا تاہم طبقہء اشرافیہ کی اچھی اور عملی مثالیں عوام کے لئے تقلید کا باعث بن سکتی ہیں۔


© Daily Pakistan (Urdu)