شاہد نعیم
گزشتہ روز بیرونِ ملک قید پاکستانیوں کے اعداد و شمار سامنے آنا محض ایک سرکاری رپورٹ کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے قومی نظام، معاشرتی رویوں، معاشی پالیسیوں اور بیرونِ ملک روزگار کے حصول کے طریقۂ کار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے پیش کردہ تحریری جواب کے مطابق، دنیا کے 72 ممالک میں مجموعی طور پر 21ہزار 647پاکستانی قید ہیں۔ ان میں 13ہزار 78زیرِ سماعت مقدمات کے ملزمان، جبکہ 8ہزار 569سزا یافتہ قیدی ہیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، سعودی عرب میں 10 ہزار 745پاکستانی قید ہیں، جن میں 5ہزار 445 جدہ اور 5ہزار 300ریاض میں ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی قیدیوں کی تعداد 5 ہزار 297بتائی گئی ہے۔یہ اعداد و شمار کئی بنیادی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ ہمارے شہری بیرونِ ملک کن حالات میں جرائم کی دنیا تک پہنچتے ہیں؟ کتنے افراد دانستہ جرم کرتے ہیں، کتنے جعل سازوں کے ہاتھوں دھوکا کھاتے ہیں اور کتنے ایسے ہیں جو بہتر مستقبل کی تلاش میں غلط راستوں کا انتخاب کر بیٹھتے ہیں؟پاکستان میں بے روزگاری، کم آمدنی، مہنگائی اور روزگار کے محدود مواقع نے لاکھوں خاندانوں کو معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمت سے محروم رہتے ہیں، جبکہ ہنرمند افراد بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق آمدنی حاصل نہیں کر پاتے۔ایسے حالات میں بیرونِ ملک ملازمت ایک امید بن جاتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں بہتر تنخواہ اور محفوظ مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجائے نوجوان اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، زمینیں فروخت کرتے ہیں اور بعض اوقات قرض لیکر بیرونِ ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب روزگار کی یہ خواہش قانونی اور محفوظ راستے کے بجائے غیرقانونی ذرائع سے پوری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کچھ افراد جعلی ویزوں، فرضی ملازمتوں اور غیرمستند ایجنٹوں کے جھانسے میں آ جاتے ہیں۔ بعض کو ان کے اصل کام سے ہٹ کر دوسری سرگرمیوں میں دھکیل دیا جاتا ہے، جبکہ کچھ لوگ جان بوجھ کر غیرقانونی سرگرمیوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔تاہم ایک اہم حقیقت سمجھنا ضروری ہے، بے روزگاری جرم کا جواز نہیں، لیکن بے روزگاری اور معاشی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ہر قیدی کو بے گناہ قرار دینا درست نہیں، لیکن ہر گرفتار شخص کو مکمل حقائق جانے بغیر مجرم سمجھ لینا بھی انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ریکروٹنگ ایجنسیاں ، روزگار فراہم کرنے والی یا خواب بیچنے والی؟ بیرونِ ملک ملازمتوں کے حصول میں ریکروٹنگ ایجنسیوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ قانونی اور دیانت دار ایجنسیاں پاکستانی افرادی قوت کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں اہم خدمات انجام دیتی ہیں، لیکن غیرقانونی ایجنٹوں اور بدعنوان عناصر کی سرگرمیاں اس پورے شعبے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتی ہیں۔بعض افراد کو بھاری رقم کے عوض بیرونِ ملک ملازمت، اچھے عہدے اور پرکشش تنخواہ کی ضمانت دی جاتی ہے، مگر وہاں پہنچنے پر صورتِ حال مختلف نکلتی ہے۔ کہیں ویزا جعلی ہوتا ہے، کہیں ملازمت کا وجود نہیں ہوتا اور کہیں معاہدے میں درج شرائط پر عمل نہیں کیا جاتا۔ کچھ معاملات میں افراد کو ایسے کاموں میں ملوث کر دیا جاتا ہے جن کے قانونی نتائج سے وہ پوری طرح واقف نہیں ہوتے۔یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ حکومتی ادارے ایسی ایجنسیوں کی نگرانی کیسے کرتے ہیں؟
ان کے لائسنسوں کی جانچ کتنی مؤثر ہے؟ بیرونِ ملک ملازمت کے نام پر شہریوں سے وصول کی جانے والی رقوم کا حساب کون رکھتا ہے؟ اور دھوکا دہی ثابت ہونے پر متاثرہ خاندانوں کو انصاف کتنی جلدی ملتا ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ریکروٹنگ ایجنسیوں کا........
