menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

مجید اصغر

12 0
latest

اسلام دشمن قوتیں روشن خیالی کے لبادے میں اپنی قاہرانہ طاقت کے بل بوتے پر اسلام مسلمانوں اور ان کی ملی اقدار کے خلاف کیسی کیسی بھیانک سازشوں کو روبہ عمل لانے کےلئے پوری شدت سے سرگرم عمل ہیں اس کے شواہد پوری دنیا میں مختلف صورتوں میں دیکھے جاسکتے ہیں مگر چند دینی تنظیموںاور علماو مفکرین کے مواعظ کے سوا ان کے آگے بند باندھنے کی کوئی اجتماعی کوشش نظر نہیں آتی ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے جس اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا ڈول ڈالا تھا اسکے سارے محرکین کو ایک ایک کرکے قتل کرادیا ؤگیا یا منظر سے ہٹا دیا گیا ۔ان میں سعودی عرب کے شاہ فیصل، لیبیا کے معمر قذافی، مصر کے جمال عبدالناصر، الجزائر کے احمد بن باللّٰہ، انڈونیشیا کے عبدالرحیم سوکارنو اور خود ذوالفقار علی بھٹو بھی شامل ہیں۔ ان کے بعد یہ تنظیم بے اثر ہوکر رہ گئی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی متفقہ رائے ہے کہ ان کے قتل کے پس پردہ امریکا اور اس کے بغل بچہ اسرائیل کا ہاتھ ہے ۔

اسرائیل کی چھوٹی سی ناجائز ریاست کی تخلیق کا سہرا اپنے وقت کی سب سے بڑی سامراجی قوت برطانیہ کے سربندھتا ہے جس نے جرمن ڈکٹیٹر ہٹلر کے قتل عام سے بچانےکیلئے یہودیوں کو دنیا بھر سے اکٹھا کرکے اس میں لابسایا، اب یہ ریاست خود کو دریائے نیل سے فرات تک وسعت دینے کیلئے اپنے سرپرست امریکا کی مدد سے سرگرم ہے اور امریکا نے جو ایران کے ’’خطرے ‘‘سے بچانے کیلئے دنیا کو تیسری عالمگیر جنگ کے خطرے اور معاشی تباہی سے دوچار کردیا ہے نام نہاد جنگ بندی معاہدوں کے باوجود اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی اور لبنان پر جارحانہ حملوں اور قتل و غارت کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔

فلسطینیوں کا المیہ پوری دنیا کے سامنے ہے مگر تشویش کے اظہار کے سوا ان کے حق میں کوئی عملی قدم اٹھاتا دکھائی نہیں دیتا۔ 80ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور لاکھوں جلاوطن کئے جانے کے بعد بھی اسرائیل فلسطینیوں کے اصل وارثوں کو صفحہ ہستی سے ہی مٹانے کے درپے ہے۔ اس حوالے سے مسلمانوں کے قبلہ اول مسجد اقصیٰ کو ہیکل سلیمانی میں تبدیل کرنے کا منصوبہ اس کی اولین ترجیح ہے اس سے قبل اس کے اتحادی بھارت میں تاریخی بابری مسجد کو انتہا پسند ہندوؤںنے شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر بنالیا۔ دنیا کے 57 اسلامی ممالک اور دو ارب سے زائد مسلمان ان کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ صرف مذمت کرکے رہ گئے ۔ اسرائیل تو عملی طور پر امریکا ہے اور تقریباً سارے اسلامی ملک امریکہ کے حاشیہ بردار ہیں ۔ اس نے قبلہ اول کو شہید کرکے اس کی جگہ یہودیوں کی عبادت گاہ بنالی تو اسے کون روکے گا؟

مسجد اقصیٰ اسلام کا تیسرا بڑا مقدس ترین مقام ہے اور فلسطین سوا لاکھ نبیوںؑ اور رسولوںؑ کا مسکن بتایا جاتا ہے ۔ اس کا وسیع احاطہ الحرم شریف کہلاتا ہے ۔ اس میں کئی تاریخی عمارتیں ہیں قرآن پاک کی سورہ بنی اسرائیل میں اس کا ذکر ہے اور نبی آخری الزماں ﷺیہیں سے معراج شریف کیلئے تشریف لے گئے تھے ۔ پھر قرآن پاک میں ہی یہودیوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اللّٰہ کے کلام میں تحریف کرتےرہتے ہیں اسی لئے اللّٰہ نے ان پر لعنت کررکھی ہے ۔ جو قوم اللّٰہ کے کلام کو بدل دیتی ہے اس کیلئے مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا کون سا مشکل ہے ۔قبلہ اول کو حضرت عمر ؓبن خطاب کے........

© Daily Jang