سہیل وڑائچ
نواز شریف جنوبی ایشیا کے سینئر اور تجربہ کار ترین سیاسی رہنما ہیں۔ 3بار کے وزیراعظم اور موجودہ نظام کے اہم شریک کار ہونے کے علاوہ وہ چار دہائیوں میں مقتدرہ اور سول حکمرانوں کے درمیان دوستیوں اور لڑائیوں کے اہم ترین گواہ بھی ہیں۔ نوازشریف بہت ہی گہرے آدمی ہیں ان کی مرضی کے بغیر آپ اُن سے دل کی بات نکلوا نہیں سکتے۔ صحافت کے ایک ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے مجھے ان سے درجنوں ملاقاتوں کا بار بار موقع ملا اور اپنے تئیں ان کی اصل سوچ اور افکار کو سمجھنے کی کوشش کی۔ نواز شریف بہت ہی متحمل اور نرم لہجے کے آدمی ہیں لیکن اگر کسی پر غصّہ ہو تو وہ اسے چھپا نہیں پاتے، انکے سفید رنگ چہرے پر سرخی نمایاں ہو جاتی ہے اور ان کا ملاقاتی فوراً سمجھ جاتا ہے کہ وہ ناراض ہیں وگرنہ عام طور پر ان کے معصوم چہرے اور حیرانی کے تاثرات سے ملاقاتی انہیں سادہ لوح شخص سمجھتا ہے۔ ان کے چہرے کی معصومیت اور سب کچھ معلوم ہونے کے باوجود یہ ظاہر کرنےکہ انہیں کچھ علم نہیں، بہت سے لوگ مغالطے میں آجاتے ہیں کہ ’’میاں صاحب کتنے سادہ ہیں‘‘ مگر میرے خیال میں ان کا یہ قدرتی انداز ہی انہیں لوگوں کا محبوب بھی بناتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کے اندر موجود بے پایاں گہرائی کو چھپا کر بھی رکھتا ہے۔
اپنے ناقص العقل ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے عرض ہے کہ آج کے دور میں اگر نواز شریف کے حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ نواز شریف کے سیاست، عالمی منظر نامے اور پاکستان کے داخلی ایشوز پر اصل خیالات بالکل اور ہیں اور آج کل وہ جن حالات سے گزر رہے ہیں اور انہیں اپنائے ہوئے ہیں یہ ان کے اصل خیالات سے متضاد ہیں بلکہ اگر سچ کہا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ وقتی مصلحتیں انکی اصل سوچ پر غالب آئی ہوئی ہیں اور جب آپ مصلحتوں کا شکار ہو کر اصل سوچ پر کمپرومائز کرتے ہیں تو لازماً تضاد پیدا ہوتا ہے نواز شریف کی موجودہ سیاست میں یہ تضاد نمایاں ہے۔
نواز شریف کا عرصۂ دراز سے یہ خواب تھا کہ بھارت سے لڑائی اور دشمنی ختم کر کے دونوں ملک اپنی معاشی ترقی پر توجہ دیں، اس حوالے سے انہوں نے بھارتی وزیراعظم واجپائی اور پھر وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان مدعو کیا وزیراعظم واجپائی نے پاکستان آنا تھا تو اس وقت کی مقتدرہ، دائیں بازو کی جماعتوں اور ایک نظریاتی اخبار نے ان کیخلاف........
