محمد عرفان صدیقی
کراچی کے علاقے گلشن اقبال کا وہ کھلا مین ہول جو صرف ایک ڈھکن کا منتظر تھا۔ چاہے وہ ڈھکن شہری حکومت لگاتی یاسپر اسٹور کی انتظامیہ جسکی روزانہ کروڑوں روپے کی سیل ہوتی ہے، لیکن وہ ڈھکن نہ آیا۔ اور نہ آنے کی قیمت ایک تین سالہ معصوم زندگی نے ادا کی۔ گلشنِ اقبال کی گلی میں ماں اب بھی اسی لمحے میں قید ہے جب اس کا اکلوتا بچہ اس کی آنکھوں کے سامنے اچانک اندھیرے میں پھسل گیا۔ اس کی چیخ آج بھی کراچی کے دل میں گونجتی ہے۔
یہ تصویر صرف ایک حادثہ نہیں، یہ پورے نظام کی موت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اسی سال ایسے کھلے مین ہول تیس سے زیادہ بچوں کو نگل چکے ہیں۔ تیس ماؤں نے اپنے گھروں میں خاموشی کی قبریں دیکھیں۔ تیس باپ کندھوں پر وہ بوجھ اٹھا کر قبرستان گئے جس کا وزن دنیا کےکسی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ ریاست تماشائی رہی، شہری حکومت کاغذوں میں مصروف رہی، اور اس عظیم الشان سپر اسٹور نے اپنی دہلیز پر موجود موت کے اس گڑھے کو بند کرانے میں ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا ۔ یہی بے حسی اس شہر کا سب سے بڑا زخم ہے۔
کراچی تو سندھ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جب سب سے بڑے شہر کا یہ حال ہے، تو حیدرآباد کی گلیاں کون دیکھے گا؟ نوابشاہ کی ٹوٹی سڑکیں کون ٹھیک کرے گا؟ لاڑکانہ کی ابلتی سیوریج لائنوں کو کون بند کرے گا؟ سکھر کے اسپتال کون چلائے گا؟ بدین اور تھرپارکر کی پیاس کون بجھائے گا؟
سچ تو یہ ہے کہ سندھ کے بڑے شہر، اور چھوٹے قصبے، سب برسوں سے بنیادی ضرورتوں کیلئے ترس رہے ہیں۔ سڑکیں، پانی، سیوریج، صحت، ٹرانسپورٹ—ہر جگہ ایک ہی سوال: کیا حکومت نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ سترہ سال سے پیپلز پارٹی سندھ کی حکمران ہے۔ سترہ سال میں ایک صوبہ بدلا........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Penny S. Tee
Gideon Levy
Waka Ikeda
Mark Travers Ph.d
Grant Arthur Gochin
Tarik Cyril Amar
Chester H. Sunde