پشاور کی سوچ: انتظامی مسائل کا حل
پشاور اور دیگر علاقائی سطح پر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث اس وقت ملکی سیاست اور انتظامی ڈھانچے کا ایک انتہائی حساس، پیچیدہ اور سلگتا ہوا موضوع بن چکی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی ملک میں طرزِ حکمرانی کے زوال، عوامی محرومیوں اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کا چرچا ہوتا ہے، تو نظامِ حکومت کی تنظیم نو اور نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا نعرہ ایک طاقتور سیاسی بحث کی صورت میں سامنے آ جاتا ہے۔ اس وقت ملک کو درپیش چیلنجز محض معاشی یا سیاسی نہیں ہیں، بلکہ یہ بنیادی طور پر ایک انتظامی بحران کی شکل اختیار کر چکے ہیں جہاں ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ دیکھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ آیا پاکستان کے دیرینہ مسائل کا حل محض نئے صوبے بنانے میں پوشیدہ ہے، یا پھر اصل ضرورت اختیارات کو حقیقی معنوں میں نچلی سطح تک منتقل کرنے اور مقامی حکومتوں کے نظام کو بااختیار بنانے کی ہے۔
پشاور جیسے تاریخی اور کثیر آبادی والے شہر اور اس سے جڑے دیگر علاقوں کی زمینی حقائق پر اگر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے اپنی وسعت اور پیچیدگی کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔ جب ایک صوبے کے اندر اتنی بڑی آبادی اور وسیع و عریض رقبہ موجود ہو، تو صوبائی دارالحکومت سے دور دراز کے اضلاع میں بیٹھے ہوئے عام شہری تک بنیادی سہولیات کا پہنچنا ایک خواب بن جاتا ہے۔ پشاور سے لے کر صوبے کے پسماندہ ترین کونے تک کے انتظامات کو ایک ہی مرکز سے چلانا نہ صرف انتظامی لحاظ سے محال ہے بلکہ اس........
