اقبال اور کچھ دلچسپ باتیں
اقبال اور کچھ دلچسپ باتیں
کسی کی نیند اڑھی اور کسی کے خواب گئے سفینے سارے اچانک ہی زیر آب گئے ہمیں زمیں کی کشش نے کچھ اس طرح کھینچا ہمارے ہاتھ سے مہتاب و آفتاب گئے اس غزل کا مقطع بھی دیکھ لیں: تو اپنے آپ کو اے سعد مت ہوا دینا ہوا کی زد میں جو آئے تو پھر حباب گئے یہاں میر کا ایک نہایت بلیغ شعر یاد آ گیا جو حباب کے حوالے سے ہے: ہستی اپنی حباب کی سی ہے ‘ یہ نمائش حباب کی سی ہے کیا آیا یاد آپ کو گلزار! آدمی بلبلہ ہے پانی کا مقصد کہنے کا یہ کہ میر و غالب و اقبال ہمیں تو سلیبس کی ہیں۔ یعنی: حافظ و غالب و اقبال سے محبت ہے ہمیں ہم وہی لوگ ہیں جو اپنے زمانے کے نہیں یہ سب کچھ اس لیے لکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ موضوع ان دنوں بہت وائرل ہے کہ کسی شاعر نے ترنگ میں سقراط بنتے ہوئے بیان داغ دیا کہ اقبال تو غالب کے ایک شعر سے نکلا ہے خیر ایسی بات پہلے بھی کسی نے کہا تھا کہ فیض غالب کے ایک شعر کی تفسیر ہے: تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے اس بحث کو چھوڑیے یہ ایک آزمودہ انداز اظہار ہے کہ بڑے شاعر کو ہاتھ ڈالو اور جو منہ میں آئے کہتے جائو تاکہ لوگوں کی توجہ حاصل کرو۔ یہی کچھ میں نے دیکھا کہ فی البدی ہم کہہ دیا: جب اپنی شاعری سے نہیں کچھ بھی بن........
