اٹھارویں ترمیم: حقیقت یا افسانہ؟
اٹھارویں ترمیم: حقیقت یا افسانہ؟
آئینی سیاست میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اصل مسودہ سامنے آنے سے پہلے ہی اس کے بارے میں اندازے، قیاس آرائیاں اور سیاسی ردعمل اس طرح پھیل جاتے ہیں کہ وہی بحث کا اصل محور بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں 28ویں آئینی ترمیم کے گرد جو منظرنامہ تشکیل پا رہا ہے، وہ اسی کیفیت کی ایک واضح مثال ہے۔ ابھی تک کوئی باضابطہ مسودہ عوام یا پارلیمنٹ کے سامنے مکمل طور پر نہیں آیا، مگر اس کے باوجود سیاسی گفتگو، میڈیا مباحث اور مختلف جماعتوں کے بیانات نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جس میں قیاس آرائی بھی سیاسی حقیقت کے درجے تک پہنچتی دکھائی دیتی ہے۔ میڈیا پر اس بحث کا لبِ لباب ایک نہایت حساس اور غیر معمولی دعوے کے گرد گھوم رہا ہے۔ ایک طرف یہ تصور بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ ملک کے انتظامی ڈھانچے کو ازسرنو ترتیب دیتے ہوئے بارہ نئے صوبے بنائے جائیں گے وہ بھی ایسے کہ ہر صوبہ تقسیم ہوجائیگا۔ اس خیال کو انتظامی اصلاح، بہتر حکمرانی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے تناظر میں پیش کیا جارہا ہے کہ پاکستان جیسے بڑے اور پیچیدہ انتظامی ڈھانچے والے ملک میں موجودہ صوبائی اکائیاں وقت کے ساتھ اتنی وسیع ہو چکی ہیں کہ ان کی مؤثر حکمرانی مشکل ہو گئی ہے، اس لیے ان کی تنظیمِ نو ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ مگر اسی بحث کا دوسرا اور زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ یہ تاثر بھی دیا جارہا ہے کہ اس نوعیت کی کسی بھی بڑی آئینی یا انتظامی تبدیلی........
