انسان کی اصل کہانی
ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی انسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ خود کو سمجھ نہیں سکا، اپنے اندر نبرد آزما انسان سے ملاقات نہیں کر سکا، در اصل زندگی کی سب سے مشکل مگر سب سے ضروری ملاقات وہ ہے جو انسان اپنی ذات سے کرے ۔ایک جسم ، ایک روح، ایک خواہش یا ایک احساس، یہی لمحہ اس کے اندر معرکے کا آغاز بھی ہے اور نجات کا دروازہ بھی، جو خود سے مل لیتا ہے وہ پوری کائنات کو سمجھ لیتا ہے ۔ایک خیر کی قوت ہے اور ایک شر کی بھی، یہی مخالف سمتیں اس کی پوری زندگی کی کہانی ہیں، انسان کبھی بلند اخلاقی اقدار کی میراج پر پہنچ کر فرشتوں سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی خواہشات کے جال میں پھنس کر پستی کی ایسی گہرائی میں چلا جاتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔یہی تضاد انسان کی اصل پہچان ہے۔اور اسی تضاد میں اس کی آزمائیش بھی چھپی ہے۔ انسان کے اندر دو متضا د دنیائیں آباد ہیں، ایک وہ دنیا ہے جو روشنی ، محبت، ایثار اور سچائی سے بھری ہوئی ہے اور دوسری وہ جہاں لالچ، نفرت ،حسد اور خود غرضی کا راج ہے۔یہ دونوں قوتیں مسلسل ٹکرا رہی ہیں، کبھی نیکی غالب آ جاتی ہے اور انسان امن، ایمان اور سکون کے قریب جاتا ہے اور برائی حاوی ہو کر اسے بے سکون ، بے قرار ، بے مقصد بنا دیتی ہے۔یہی اندرونی جنگ درآصل زندگی کی اصل کہانی ہے۔انسان کا نفس اسے........
