menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

امن کی کوششیں اور امریکی طرز عمل میں تضاد

8 0
latest

امن کی کوششیں اور امریکی طرز عمل میں تضاد

مشرقِ وسطیٰ میںسفارتی سرگرمیوں، عسکری دباؤ اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے صورتِ حال کو نہایت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان نے جس سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی برادری کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا دورہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں طویل مشاورت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کو اپنی اہم ترجیح سمجھتا ہے۔ یہ سفارتی کوششیں اس لحاظ سے قابلِ قدر ہیں کہ ان کا مقصد کسی فریق کی حمایت نہیں بلکہ کشیدگی کو کم کرنا اور مذاکرات کے لیے فضا ہموار کرنا ہے۔ دنیا بھر میں ان اقدامات کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، لیکن بدقسمتی سے امریکہ اور اسرائیل کے غیر سنجیدہ رویے نے امن کی ان کوششوں کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا بنیادی مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے قبل خطے کے اہم ممالک کو اعتماد میں لینا اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں مذاکرات کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکیں۔ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ اس خطے کے اہم ممالک ہیں اور ایران بھی اس کشیدگی کا مرکزی فریق ہے۔ ان تمام ممالک کے ساتھ مشاورت یہ ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اور متوازن کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ تاہم امن کی یہ تمام کوششیں اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب بڑے فریق خصوصاً امریکہ اپنے طرزِ عمل میں مستقل مزاجی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ امریکی پالیسی کا تضاد ہے۔ ایک طرف امریکہ مذاکرات کی بات کرتا ہے، دوسری طرف ایسے اقدامات کرتا ہے جو اعتماد سازی کے بجائے بداعتمادی کو فروغ دیتے ہیں۔ ایران کے ساتھ مذاکرات سے قبل آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اسی تضاد کی واضح مثال ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم ترین گزرگاہ ہے۔ وہاں عسکری دباؤ بڑھانا کسی بھی صورت اعتماد سازی کا اقدام نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایران نے اسے بجا طور پر اشتعال انگیز قدم قرار دیا۔ مذاکرات کی میز پر آنے سے پہلے اگر ایک فریق دوسرے کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرے تو بات چیت کے امکانات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ امریکہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے دباؤ ڈال کر سفارت کاری کامیاب نہیں ہو سکتی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روزانہ بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات بھی اسی بے یقینی کو بڑھا رہے ہیں۔ ایک عالمی طاقت کے سربراہ کے بیانات نہ صرف پالیسی کا اظہار ہوتے ہیں بلکہ ان سے عالمی ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔ سفارت کاری سنجیدہ، متوازن اور محتاط زبان کا تقاضا کرتی ہے، جبکہ غیر محتاط بیانات اعتماد سازی کے عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایران کی جانب سے بار بار یہ شکایت سامنے آ رہی ہے کہ امریکہ کے بیانات مذاکراتی فضا کو خراب کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں اسرائیل کا طرزِ عمل بھی امریکی سنجیدگی پر سوال اٹھاتا ہے۔ امریکہ نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے میں کردار ادا کیا، لیکن چند دن بعداسرائیل کی جانب سے لبنان میں دوبارہ حملے کیے گئے۔ اگر امریکہ واقعی خطے میں امن چاہتا ہے تو اسے اپنے اتحادیوں کو معاہدوں کی پابندی پر مجبور کرنا ہوگا۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک طرف امریکہ ثالثی کرے اور دوسری طرف اس کا اتحادی انہی معاہدوں کو پامال کرے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اعتماد بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر فریقین کو یہ یقین نہ ہو کہ طے پانے والے معاہدوں پر عمل ہوگا تو مذاکرات بے معنی ہو جاتے ہیں۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے اور اس حیثیت سے اس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے وعدوں کا احترام کرے، اپنے اتحادیوں کو بھی پابند بنائے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو کشیدگی میں اضافہ کریں۔ بدقسمتی سے موجودہ حالات میں امریکہ کا کردار متضاد دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ امن کی بات کرتا ہے، دوسری طرف اس کے اقدامات اور بیانات کشیدگی بڑھاتے ہیں۔پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی کوششیں اسی لیے اہم ہیں کہ وہ جنگ کے بجائے مذاکرات کے راستے کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کی حمایت کی ہے۔ حالیہ سفارتی سرگرمیوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان صرف اپنے مفادات کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سرگرم ہے۔ دنیا اس وقت ایک بڑے عالمی تصادم کے خطرے سے دوچار ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی امن سب متاثر ہوں گے۔ اس خطرے کو ٹالنے کے لیے ضروری ہے کہ امریکہ ایک ذمہ دار عالمی طاقت کا کردار ادا کرے۔ اسے اپنی طاقت کے استعمال سے زیادہ اعتماد سازی، معاہدوں کی پاسداری اور سفارتی سنجیدگی پر توجہ دینی ہوگی۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ پاکستان اور دیگر ممالک امن کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں، لیکن اگر امریکہ اپنی پالیسیوں میں تضاد برقرار رکھتا ہے تو یہ تمام کوششیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ عالمی امن کا تقاضا یہی ہے کہ امریکہ اپنے وعدوں کا احترام کرے، اپنے اتحادیوں کو معاہدوں کی پابندی پر آمادہ کرے اور مذاکراتی عمل کو حقیقی معنوں میں کامیاب بنانے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو خطے میں امن کے امکانات مزید دھندلا جائیں گے اور دنیا ایک نئے بحران کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔


© Daily 92 Roznama