menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

جعلی نوٹ سکینڈل

18 0
friday

آخر کارضلع راجن پو ر کے بدنام زمانہ ڈاکو مریدانکانی نے رضاکارانہ طور پر پولیس، سکیورٹی فورسز اور گورچانی بلوچ سرداروں کی موجودگی میں سرنڈر کردیا اور آئندہ جرائم کی دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔ گذشتہ کئی دھائیوں سے مریدانکانی اور اس کے درجن بھر ساتھیوں نے ڈیرہ غازیخان اور راجن پور اضلاع کے کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلہ کواپنی آماجگاہ بنارکھا تھا جو قتل ، اغوا برائے تاوان ، ناجائز اسلحہ کی خرید و فروخت اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث تھے ۔ خوف کی علامت سمجھے جانے والا یہ خطرناک گروہ پہاڑی سلسلہ میں گورچانی تمن سے تعلق رکھتا تھا اور بلوچستان کے قریبی علاقوں میں اپنے سرپرستوں کے زیر سایہ شرفاء اور مالدار طبقے کواغوا کراتے اور پھر بھاری رقوم کے عوض مُک مُکا کرکے رہا کردیا جاتا۔ صوبائی وزیر معدنیات سردار شیر علی گورچانی اور دیگر قبائلی سردار موقع پر موجود تھے ، صوبائی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق پرامن پنجاب کے تحت علاقہ میں دہشت کی علامت مریدانکانی کا ساتھیوں سمیت سکیورٹی فورسز کے سامنے سرنڈر ہونا خطے کیلئے بہت بڑی کامیابی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علاقہ بھر میں یقیناً امن قائم ہوگا اور لوگ پر سکون زندگی گذار سکیں گے ۔ قبل ازیں راجن پور کے کچے کے علاقے سے بھی مختلف گروہوں نے پولیس اور دیگر اداروں اور علاقائی سردارو ں کی موجودگی میں اپنے آپ کو قانون کے حوالے کیا۔ ان جرائم پیشہ افراد پر ضلع بھر کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں جس میں قتل ، اقدام قتل بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان جیسے الزامات ہیں۔ رضاکارانہ طور پر پیش ہونے والے مجرموں کیلئے انہین یہ یقین دھانی ضرور ہوتی ہے کہ انکی جان محفوظ ہے اور بعض مقدمات میں بحالی پروگرام کے تحت مجرمان اگر تعاون کریں تو انہین ریلیف مل سکتا ہے ۔ تاہم مذکورہ بالا سنگین جرائم میں انہیں سزائے موت، عمر قید اور سخت سزائوں کے ساتھ سخت جرمانوں کی سزا ہوسکتی ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مریدانکانی اپنے تمام کیسز کا سامنا کریگا، جرائم ثابت ہونے پر سخت سزاکا حقدار ہوگا لیکن اب کچھ نرمی کا امکان ہے مگر عدالتیں ہی آخری فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔ مردانکانی اور ساتھیو ں کو جب عوامی اجتماع میں لایا گیا تو ان کے عزیزواقربا اور دوستوں نے انہیں ہارپہنائے سوشل میڈیا کے زرائع سے یہ بات بھی سنی گئی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں حصہ لے گا ۔ یہ بات اپنی جگہ پر بڑی اہم ہے کہ جرائم پیشہ افراد کے سرنڈر ہونے کی اصل وجہ کسی بڑے آپریشن ، پولیس اور رینجر کا دبائو ، قبائلی جرگے کے اثرات اور سیا سی خاندانوں کی مداخلت ہوتی ہے ۔ یہاں عام آدمی یہ پوچھنے کا حق ضرور رکھتا ہے کہ ہمارے وہ لوگ جو گذشتہ تین دھائیوں سے زیادہ ان جرائم پیشہ گروہ کی وجہ سے مقہور اورمجبوررہے کیا اس علاقہ کے حق گوئی و بے باکی کے علمبردار اہل قلم اس معجزہ و کرامت پر روشنی ضرور ڈالیں گے کہ وہ کوہ سلیمان کے اس پار اور اس پار ظلم و طغیان کے اصل ذمہ داران اور سرپرست کون لوگ تھے؟ راجن پور ضلع کے بعد ڈیرہ غازیخان کے کوہ سلیمان کے شمالی علاقوں میں لادی گینگ کی باقیات کا قلع قمع کرنا باقی ہے اور کوہ سلیمان کے مغربی علاقہ میر شاہ علی کے علاقہ میں پلو ہیتبانی گینگ کے چند نوجوانوں کو سرنڈر ہونے کی پیشکش ضلع کی پولیس اور سکیورٹی فورسز کی ذمہ داری بنتی ہے اور علاقائی سرداروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی موجودگی میں انہیں پیش ہونے کا موقع دیں تاکہ وہ اپنے کیسز کا سامنا کرسکیں ۔ پولیس حکام نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ جاری مہم کے دوران مختلف کاروائیوں میں ڈکیتی یا چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی ہیں ۔ بلوچستان اور پنجاب کے درمیان پہاڑی سلسلے کے مختلف راستوں سے جرائم پیشہ افراد کی آمدورفت رہنے کا امکان رہتا ہے ۔ عیدالفطر سے پہلے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)کی طرف سے مقررہ رقوم کی قسط لینے والی خواتین کو ادائیگی کے دوران جعلی نوٹ دیے جانے کا الزام سامنے آیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نوٹ ریٹیلرز ، فرنچائز ز یا ادائیگی پوائنٹس سے دیے گئے ہیں۔ خبر کے مطابق BISPکے مقامی افسر نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور موقع پر پہنچ کر صورتحال دیکھی ۔ ماضی میں بھی اسی پروگرام کی ادائیگیوں میں بدانتظامی اور نگرانی کے مسائل پر حکام کو ہدایات دی جاچکی ہیں۔ حالیہ معاملے میں سرکاری سطح پر باقاعدہ کاروائی ہوئی ہے ۔ مقامی افسران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے پولیس کے ساتھ فوری آپریشن کیا اور کم از کم تین ملزمان گرفتار کیے گئے اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔ گرفتار افراد میں ریٹیلر فرنچائز ز سے وابستہ افراد شامل بتائے گئے ہیں جن پر جعلی نوٹ تقسیم کرنے کا الزام ہے ۔ پولیس نے باقاعدہ مقدمہ درج کرلیا ہے جس میں جعلی کرنسی ، دھوکہ دیہی اور جعلسازی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ابھی تک کم ازکم دس متاثرہ خواتین سامنے آئی ہیں ، تصدیق شدہ جعلی رقم تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار روپے جبکہ مجموعی طور پر مبینہ طور پر 35لاکھ روپے تک کی رقم تقسیم ہونے کا انکشاف ہواہے ۔ ادارہ کے متعلقہ حکام کے مطابق متاثرہ خواتین سے رابطہ کیا جارہا ہے ۔ ٹیمیں گھروں تک جاکر معلومات حاصل کررہی ہیں ۔ ماسوائے تحقیاتی عمل کے ابھی تک یہ بات یقین سے نہیں کہی جاسکتی کہ تمام متاثرین کو فوری طور پر رقم واپس کردی گئی ہے یا ادائیگی کا عمل جاری یا زیر غور ہو۔ خواتین کے ساتھ اس فراڈ میں منظم نیٹ ورک ہے جو ممکنہ طور ر ریٹیلرز ، فرنچائز اور شاید بنک سے جڑے افرادبھی شامل ہوسکتے ہیں ۔


© Daily 92 Roznama