menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم

18 0
25.03.2026

دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم

گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 میں پاکستان کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک قرار دیا جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ملک کو درپیش خطرات بڑی حد تک سرحد پار عوامل سے جڑے ہوئے ہیں۔ تحریکِ طالبان پاکستان اور آئی ایس کے پی جیسی تنظیمیں بیرونی محفوظ ٹھکانوں سے کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ افغانستان کو ان گروہوں کے لیے پناہ گاہ اور عملی مرکز کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کی داخلی سلامتی دراصل علاقائی اور عالمی امن کے ساتھ براہِ راست منسلک ہے۔ حملوں میں اضافے کے باوجود سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کو روکنے میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔حکومت ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے جس میں سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاسی رابطے اور سماجی و معاشی ترقی کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ نہ صرف فوری خطرات کا تدارک ہو بلکہ دہشت گردی کے بنیادی اسباب کا بھی خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں نوجوانوں کی ترقی اور بااختیار بنانے کے منصوبے اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔پاکستان کا افغانستان کے ساتھ تعاون بھی اس شرط سے وابستہ ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔ مزید برآں، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسی تنظیموں کو عالمی سطح پر دہشت گرد تسلیم کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ پاکستان ایک ہمہ جہت قومی حکمتِ عملی کے تحت دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے۔


© Daily 92 Roznama