menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

نائن زیرو کا’9‘بانی کے ...

33 0
06.05.2026

کراچی کی سیاست کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر ایک سوال ذہن میں آتا ہے: کیا کوئی سیاسی جماعت اپنی اصل روح سے یوں جْدا ہو سکتی ہے کہ اس کا وجود ہی ایک علامتی تضاد بن جائے؟ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے حوالے سے یہ سوال آج پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اْٹھ رہا ہے۔ آزاد محفلوں، صحافتی حلقوں اور سوشل میڈیا کی بزم آرائیوں میں ایک تلخ جملہ گردش کر رہا ہے کہ "نائن زیرو کا ’نائن‘ (9) تو بانی کے ساتھ ہی مائنس ہو گیا، اب جو باقی بچا ہے وہ محض ’زیرو‘ (0) ہے"۔ یہ جملہ جتنا ظریفانہ ہے، اتنا ہی تلخ حقیقت کا آئینہ دار بھی۔ کبھی یہی نائن زیرو تھا جہاں سے اْٹھنے والی ایک آواز پورے ملک کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کردیتی تھی۔ عزیز آباد کی ان گلیوں نے نہ صرف سندھ کے شہری علاقوں کی تقدیر بدلی بلکہ ملکی سیاست میں مہاجر شناخت کو ایک طاقتور عددی قوت کے طور پر متعارف کرایا۔ لیکن تاریخ کا سب سے بڑا استاد وقت ہوتا ہے، اور وقت نے آج اس عمارت کی بنیادوں کو یوں ہلا کر رکھ دیا ہے کہ اس کی شناخت کا ہر نشان دھندلا گیا ہے۔ 22 اگست 2016۔ یہ تاریخ ایم کیو ایم کی تاریخ میں ایک ایسے دھماکے کی مانند ہے جس نے جماعت کو دو لخت کر دیا۔ لندن سے 'لاتعلقی' کا جو اعلان اس روز کیا گیا، وہ محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک پورے نظریاتی ڈھانچے کی خودکْشی تھی۔ دلیل یہ دی گئی کہ اب فیصلے لندن سے نہیں، پاکستان میں ہوں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب فیصلوں کی بنیاد ہی ایک فرد کی ذات سے وابستہ تھی، تو اس ذات کو نکال دینے کے بعد وہ بنیاد کس چیز پر قائم رہے گی؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب آج تک ایم کیو ایم پاکستان نہیں دے سکی۔ بانی کی شخصیت ایم کیو ایم کے لیے محض ایک قائد کی........

© Nawa-i-Waqt