menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

دل و دماغ پر مایوسی مسلط ...

23 0
11.09.2026

جمعرات کی صبح یہ کالم لکھنے کیلئے قلم اٹھاتے ہی خیال آیا کہ گزشتہ تین دنوں کی اوسط نکالیں تو سات روپے روزانہ کے حساب سے پٹرول کے فی لیٹر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ تین دنوں میں 21روپے اضافے کے باوجود اعتماد سے لکھ نہیں سکتا کہ جمعہ کی صبح اٹھوں گا تومزید کتنا اضافہ ہوچکا ہوگا۔ ہر مہینے کے لئے طے ہوئی آمدنی کا جائزہ لوں تو وہ اپنی جگہ ساکت ہے۔ اس میں ایک روپے اضافے کی بھی امید نہیں۔ میری آمدنی یوں مسلسل کم ہورہی ہے۔ اس سے روزمرہ زندگی کی بنیادی ضروریات پر واجب رقم ادا کرنے کے لئے بھی مجھے اب تک بچائی رقم میں سے کچھ نکالنا ہوگا۔ یوں مستقبل کے بارے میں مزید متفکر ہوجاﺅں گا۔ صحافت میں پنشن کی گنجائش نہیں۔ کالم نگار ویسے بھی دیہاڑی دار ہوتا ہے۔ میرے منہ میں خاک۔ فشار خون اچانک بے قابو ہونے کی وجہ سے مفلوج ہوگیا تو دیہاڑی سے بھی جاتا رہوں گا۔

تین دنوں میں 21 روپے کے اضافی بوجھ کا جائزہ لیتے ہوئے صحافی کے لئے اپنی ذات کو نظرانداز کرتے ہوئے خلقِ خدا کی اکثریت کے بارے میں سوچنا ضروری ہے۔ ہمارے ہاں نچلے متوسط طبقے کی بے پناہ اکثریت کی آمدنی پچاس ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے کے درمیان ہے۔ بندھی ٹکی آمدنی والے گھرانوں کے عموماََ تین سے چار بچے بھی ہوتے ہیں۔ ٹھوس اعدادوشمار کی عدم موجودگی میں بآسانی دعویٰ کرسکتا ہوں کہ مذکورہ طبقے کی اکثریت کرائے کے مکانوں میں رہتی ہے۔ مکان کے کرائے کے علاوہ بجلی اور گیس کے بل بھی ادا کرنا ہوتے ہیں۔ ان سب کی ادائیگی کے بعد بچوں کی تعلیم اور انہیں سکول پہنچانا اور گھر لے کر آنا بھی ضروری ہے۔ ان کی روزمرہ زندگی کا محدب عدسے سے جائزہ لینے کی کوشش کی تو دل لہو سے........

© Nawa-i-Waqt