menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

نوجوانوں کا سیلاب، ...

14 0
18.06.2026

کبھی کبھی قومیں جنگوں سے نہیں ہارتیں، وسائل کی کمی سے نہیں ٹوٹتیں، بیرونی سازشوں سے نہیں بکھرتیں وہ اپنی غلط ترجیحات، کمزور فیصلوں اور ناقص حکمرانی کے بوجھ تلے دب جاتی ہیں پاکستان کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔آج جب ایک نوجوان ہاتھ میں ڈگری لیے روزگار کی تلاش میں دربدر پھرتا ہے، جب ایک باپ مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی مستقبل کے خوف میں اپنے بچوں کے خوابوں کا بوجھ اٹھائے بیٹھا ہے، جب ایک ماں اپنے بیٹے کو بہتر زندگی دینے کی امید میں دعائیں کرتی ہے، تو یہ صرف چند افراد کی داستان نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی اجتماعی بے چینی ہے۔ سب سے افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مسائل کی وجہ سے نہیں بلکہ مواقع ضائع کرنے کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔دنیا کے نقشے پر شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جسے قدرت نے پاکستان جیسی نعمتیں عطا کی ہوں۔ دو سو چالیس ملین سے زائد آبادی ، نوجوانوں کی بڑی تعداد، زرعی وسائل، معدنی ذخائر، اسٹریٹجک محل وقوع، وسیع داخلی منڈی اور دنیا کے اہم تجارتی راستوں کے درمیان جغرافیائی حیثیت یہ سب کسی بھی ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے خواب کی مانند ہیں لیکن تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ وسائل ترقی کی ضمانت نہیں ہوتے۔ ترقی کا اصل راز اداروں، پالیسیوں اور حکمرانی کے معیار میں پوشیدہ ہوتا ہے۔پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اپنے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے درکار نظام قائم نہیں کر سکے کئی دہائیوں سے ہماری معیشت پالیسیوں کے عدم تسلسل، ناقص منصوبہ بندی، غیر ضروری بیوروکریسی، کمزور ادارہ جاتی صلاحیت، مہنگی توانائی، سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد اور سب سے بڑھ کر میرٹ کے بجائے دیگر عوامل کو ترجیح دینے کی قیمت ادا کر رہی ہے۔دنیا کی کامیاب ریاستوں نے ایک بنیادی اصول اپنایا:بہترین صلاحیتوں کو آگے لاؤ، نتائج طلب کرو اور........

© Nawa-i-Waqt