یہ احتجاج دکھا کرمفاہمت کا ہاتھ ملانے کا حربہ تو نہیں؟
تحریک انصاف کے آئندہ کے کسی ممکنہ احتجاج کے حوالے سے دو متضاد بیانات سامنے آئے ہیں جن کی اہمیت اس لئے زیادہ ہے کہ ایک بیان پارٹی کے چیئرمین کی طرف سے تو دوسرا بیان یا غیر اعلانیہ احتجاج کا عندیہ خیبر پختونخواحکومت کی طرف سے ہے ۔
ایک ایسے وقت جب تحریک انصاف کی قیادت آٹھ فروری کی کال پر قیادت کارکنوں کی شرکت اور عوام کی طرف سے ردعمل کا باریک بینی سے جائزہ لے کر آئندہ کے لئے متفقہ لائحہ عمل پر غورکرکے خود احتسابی کی جاتی کمزوریوں کا جائزہ لے کر ان کو دور کیا جاتا اور آئندہ کا ٹھوس لائحہ عمل مرتب کیا جاتا بغیر کسی مشاورت اور تیاری کے ایک جانب احتجاج کاعندیہ دیا گیا ہے تو دوسری جانب احتجاج کا امکان ہی مسترد کیا گیا ہے ۔
دو ملاں میں مرغی حرام والی صورتحال میں احتجاج کا مستقبل خود بخود سوالیہ نشان بننا فطری امر ہے اس سے قیادت کا خلاعدم مشاورت اور اختلافات کا بھی عندیہ ملتا ہے ویسے بھی حالات اب احتجاج کی کامیابی کو مشکل سے مشکل تر بنانے لگے ہیں بجائے اس کے کہ کوئی متفقہ آواز بلند ہوتی تحریک انصاف کی صفوں میں بعد نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہے ۔
ایک اور رکاوٹ یہ بھی ہے کہ اسیر........
