تیراہ میں فوجی آپریشن نہیں تو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کریں
خیبر پختونخوا میں طویل عرصے سے جاری دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کو حالیہ عشرے میں اس قدر گنجلک اور پیچیدہ موضوع بنا دیاگیا ہے کہ صورتحال کو سمجھنے میں مشکل کا سامنا ہے، دو تین سمتوں میں منقسم موقف اور بیانیہ کیا ہے، اس کا ہی درست اندازہ لگانا دشوار ہو گیا ہے، تیراہ میں فوجی آپریشن کے حوالے سے آئے روز وفاقی حکومت سکیورٹی ذرائع اور صوبائی حکومت کی طرف سے جس کثیر الجہت نوعیت کے تبصرے اور خیال آرائیاں ہو رہی ہیں، اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مرکزی مقصد یکسوئی سے عاری بن گیا ہے، ظاہر ہے ایسے میں جب لڑنے والی قوتیں منتشر ہوں تو یہ یکسو فریق ہی کے حق میں جائے گا۔
وفاقی حکومت تیراہ میں فوجی آپریشن کے اعلان اور اپنے حصے کی ذمہ داری سے سراسر انکاری ہو کر ایک طرف ہو گئی ہے تو صوبائی حکومت ممکنہ و مجوزہ تیراہ آپریشن کے متاثر ین کے لئے مختص رقم کو ریلیف گردان کر کنی کترارہی ہے، سکیورٹی ذرائع تیراہ میں دہشت گردوں ‘ فتنہ الہندوستان اور فتنہ خوارج کے گٹھ جوڑ کو تسلیم کر رہے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت بھی قبول کرتے ہیں، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرنے کو بھی تسلیم کرتے ہیں، مگر فوجی آپریشن کے نام سے نہیں یعنی ان کو اس نام پر اعتراض........
