کیا زمانے میں پنپنے کی یہیں باتیں ہیں، یہ وقت جھگڑنے کا نہیں
ایک ایسے وقت میں جب متاثرین تیراہ کی وفاقی، صوبائی، عسکری اور عوامی یعنی ہر سطح پر دستگیری کی ضرورت ہے، بجائے اس کے خیبر پختونخوا حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان یہ تنازعہ چھڑ گیا ہے کہ تیراہ میں موجود خوارج اور دیگر دہشت گرد فتنہ گر عناصرکے خلاف کارروائی کے لئے تیراہ سے شہریوں کے انخلاء کا حکم کس نے دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب سینکڑوں لوگ گھر بار چھوڑ کر نکل آئے ہیں، اور ریاست دہشت گردوں اور خوارج کے خلاف بے رحم آپریشن کی تیاری کر رہی ہے، بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق پاک فوج نے تطہیری کارروائی کاآغاز کر دیا ہے، اس تنازعہ میں پڑنا کہ اس کی ذمہ داری کون لے گا ہمارے نزدیک ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صد افسوس ہی ہوسکتا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اس کی نوبت کیوں آئی ، اگرچہ حکومتی عناصر اس پر بھی ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں مگر ہم اس سے قطع نظر یہ کہنا مناسب سمجھتے ہیں کہ اب اس سوال کا موقع ہی نہیں رہا، اس وقت مل جل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے متاثر ہونے والے افراد کے انخلاء اور نقل مکانی کی ذمہ داری مل کرادا کرنے کا ہے، مرکزی اور صوبائی حکومت........
