مشرق وسطیٰ کا طلسماتی حصار اور تماش بین دنیا کی مجرمانہ خاموشی
رات کے خبرنامے کے سامنے بیٹھے عام سوجھ بوجھ کے حامل انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے مشرق وسطیٰ کا خطہ کسی لایعنی اور لامحدود ناٹک کا اسٹیج بن چکا ہو، جہاں گرجتے برستے بیانات، میزائلوں کے طوفان اور انسانی لاشوں کے ڈھیر روز کا معمول بن چکے ہیں۔
ہمیں اس طرح اسکرین کے سامنے جکڑ دیا گیا ہے کہ جیسے تل ابیب پر گونجتے سائرن، ایرانی سرحدوں سے اڑنے والے جوابی ڈرونز، اور واشنگٹن کی جانب سے بھیجے گئے بحری بیڑے کوئی اٹل حقیقت ہوں۔ دنیا کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہ خونریز کھیل دو کٹر اور اٹوٹ نظریاتی دشمنوں کے درمیان برپا ہے جو دنیا کو قیامت کے دہانے پر لا کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔
مگر یاد رکھیے، چوبیس گھنٹے چیختی خبروں کے اس شور اور حکومتی ایوانوں کے بلند بانگ دعووں کے پیچھے ایک نہایت مکروہ اور بھیانک حقیقت منہ کھولے کھڑی ہے۔ جب اس مصنوعی دھوئیں اور پردوں کو ہٹایا جاتا ہے، تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے: حقیقت یہ ہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ خودکشی کے کسی سفر پر نہیں نکلے۔ اس کے برعکس، یہ سب ایک ایسے گہرے اور چھپے ہوئے گٹھ جوڑ کے اسیر ہیں جہاں منہ پر دشمنی کا ناٹک کرنے والے اندر خانے ایک ہی مفاد کی چکی میں پس رہے ہیں۔ جب یہاں کے معصوم اور بے گناہ عوام خون میں نہاتے ہیں، دربدر ہوتے ہیں اور صنعتی پیمانے پر ہونے والی بربریت کا لقمہ بنتے ہیں، تو اس کھیل کے ماسٹر مائنڈ اپنے تجارتی بنکروں میں بیٹھ کر منافع کے انبار سمیٹ رہے ہوتے ہیں۔ یہ محض پرچموں یا عقیدوں کی جنگ نہیں ہے؛ یہ مصنوعی انتشار کے ذریعے دنیا پر حکمرانی کرنے، خطے کو ہڑپ کرنے اور اسلحہ ساز کمپنیوں کے بنک اکاؤنٹس بھرنے کا ایک انتہائی گھناؤنا اور ماہرانہ کھیل ہے۔
اس طلسماتی المیے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے، ان تمام کرداروں کے چھپے ہوئے عزائم کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ تہران کی طویل المدتی حکمت عملی کا اصل محور خطے پر اپنی دھاک بٹھانا اور بالادستی قائم کرنا ہے۔ کئی دہائیوں سے ایران نے لبنان، شام، عراق، یمن اور فلسطین تک پھیلے ہوئے اپنے پراکسی نیٹ ورکس کے ذریعے طاقت کے توازن کو اپنے حق میں کرنے کا جال بُنا ہے۔ اس نام نہاد "مقاومتی محور" کو مذہب اور سامراج دشمنی کے خوبصورت غلاف میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کے کھوکھلے نعروں کی پرتیں ادھیڑی جائیں، تو یہ صرف اپنے اثرورسوخ کو بڑھانے اور دفاعی حصار کھڑے کرنے کی روایتی ہوس کے سوا کچھ نہیں۔ بیرونی محاذوں پر آگ بھڑکا کر،........
