menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

بااختیار عوام، مضبوط مقامی حکومت اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم

10 0
wednesday

جمہوریت کو اکثر صرف انتخابات، پارلیمان اور حکومت سازی تک محدود سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ اس کا حقیقی مفہوم اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ 

جمہوریت دراصل ایک ایسا نظامِ حکمرانی ہے جس میں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں، ریاست ان کی مرضی سے وجود میں آتی ہے، اور حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ اگر عوام کو ریاستی معاملات میں حقیقی شرکت اور اختیار حاصل نہ ہو تو انتخابات بھی محض اقتدار کی منتقلی کا ذریعہ بن جاتے ہیں، عوامی حکمرانی کا نہیں۔

امریکا کے سولہویں صدر، ابراہم لنکن نے جمہوریت کی جو جامع تعریف پیش کی، وہ آج بھی اس نظام کی روح سمجھی جاتی ہے:

’’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، اور عوام کے لیے۔‘‘

لیکن اس تصور کو عملی جامہ صرف اسی وقت پہنایا جا سکتا ہے جب عوام کو ریاست کے ہر درجے پر حقیقی اختیار اور مؤثر شرکت حاصل ہو۔

پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر ممالک کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کی عمارت کی بنیاد ہی کمزور ہے۔ سیاست کا انحصار نظریات، پالیسیوں اور اداروں کے بجائے الیکٹیبلز، نوٹیبلز، ، خاندانی سیاست، برادری ازم اور سرمایہ دارانہ اثر و رسوخ پر ہے۔ انتخابی کامیابی اکثر عوامی خدمت، سیاسی وژن اور کارکردگی کے بجائے شخصی اثر و رسوخ کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ نتیجتاً سیاسی جماعتیں مضبوط ادارے تعمیر کرنے کے بجائے بااثر شخصیات کو اپنے ساتھ ملانے کو اپنی کامیابی سمجھتی ہیں۔

شہری آزادی، سیاسی شعور اور جمہوری اقدار کا آغاز مقامی اداروں سے ہوتا ہے۔ اگر مقامی حکومتیں کمزور ہوں تو........

© Express News (Blog)