menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

UN Ko Tala Laga Kar Trump Ka Mawakhza Karen

28 0
08.04.2026

یو این کو تالا لگا کر ٹرمپ کا مواخذہ کریں

گالیوں والی ٹویٹ ٹرمپ کی ناکامی اور فرسٹریشن کا اظہار ہے۔ کیا اس مینٹلٹی کا حامل صدر اپنی دھمکیوں پر عمل کرکے دنیا کو عالمی جنگ کے جہنّم میں جھونک دے گا یا مواخذے کا سامنا کرے گا؟ ایران کب تک تباہی برداشت کرسکے گا؟ پاکستان کی کوششوں سے جنگ بند ہوگی یا اس کی شدّت میں اضافہ ہوگا؟ ہر شخص اپنی زبان پر یہی سوالات لیے پھرتا ہے۔

علامہ اقبال کونسل کی میٹنگز میں کبھی کسی شعبے کے ماہر (expert)کو گفتگو کے لیے مدعو کرلیا جاتا ہے۔ پرسوں ماہانہ میٹنگ تھی جس میں معروف سفارت کار میڈم رفعت مسعود کو مدعو کیا گیا۔ موصوفہ ایران میں پاکستان کی سفیر بھی رہ چکی ہیں، فارسی روانی سے بولتی ہیں، ایران اور ایرانی سوسائٹی کو بخوبی سمجھتی ہیں۔

انھوں نے حالیہ جنگ کے عوامل، ایران کی صلاحیّت اور اس خطے اور ملک پر جنگ کے اثرات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ سوال وجواب اور تبادلۂ خیالات کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ شرکاء میں اس بات پر اتفاق رائے تھا کہ امریکا کو ایران کے راہبر یا ان کی نیوکلیئر صلاحیت سے اتنا مسئلہ نہیں تھا، ان کا اصل ہدف ایران میں تیل کے ذخائر پر قبضہ کرنا ہے، جو صدر ٹرمپ کا وطیرہ بن چکا ہے۔

عالمی قبضہ گروپ کا یہ سرغنہ، جہاں کسی کمزور ملک میں انرجی کے ذخائر دیکھتا ہے، اس کی رال ٹپک پڑتی ہے اور وہ کوئی بے بنیاد اور بوگس جواز تراش کر اس پر چڑھ دوڑتا ہے۔ اِسی طرح امریکا نے صدام حسین پر WMD کا بے بنیاد الزام لگا کر عراق کو تباہ کیا، صدام حسین کو قتل کردیا اور عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کرلیا۔ یہی کام چنگیز خان اور ہلاکو خان کیا کرتے تھے اور اسی نظرئیے کا جھنڈا اٹھا کر ہٹلر پوری دنیا کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں کروڑوں انسان ہلاک ہوئے۔ بلاشبہ آج کے ہلاکو خان اور ہٹلر ٹرمپ اور نیتن یاہو ہیں، اس لیے وہ کسی عزت و تکریم کے مستحق نہیں۔ سفیر صاحبہ نے بتایا کہ ایک بار عمران خان وزیراعظم کی حیثیّت سے ایران آئے تو راہبر سیّد علی خامینائی سے ملنے گئے، سفیر کی حیثیّت سے میں بھی ساتھ تھی۔

عمران خان نے راہبر سے پوچھا کہ ایران پر اس........

© Daily Urdu