Khudara Kaptan Ko Chor Dein
خدارا کپتان کو چھوڑ دیں
تعمیراورترقی کاتونہیں پتہ لیکن صابرین اورشاکرین کی فہرست میں خیبرپختونخوا والے بلاکسی شک اورشبہ کے پہلے نمبرپرہوں گے کیونکہ پرویزخٹک، محمودخان، علی امین گنڈاپوراوراب جناب سہیل آفریدی جیسے عظیم کھلاڑیوں کوبرداشت کرناکسی بے صبرے اورناشکرے کے بس کی بات نہیں۔ یہ تو خیبرپختونخوا کے عوام کی ہمت ہے کہ وہ تیرہ سال سے ایسے عظیم اوربے مثال لوگوں کوبرداشت کرتے آرہے ہیں۔ اسی برداشت اورخاموشی کوہی توصبراورشکرکہتے ہیں۔ ویسے ہم کس کس کی برکات اورکرامات یادکریں گے؟ یہاں توجوبھی آیاوہ پہلے والے سے بڑھ کرنکلا۔
منتخب حکومت کاکام ملک وصوبے کی ترقی اورعوامی مسائل کوترجیحی بنیادوں پرحل کراناہوتاہے لیکن یہاں ہرکوئی صرف خان کانعرہ لگانے کے لئے آیا۔ ان کی کتابوں میں خان اورپارٹی پہلے بھی ایک نمبرپرتھی اوران کے ہاں عوام اورصوبہ آج بھی دوسرے نمبرپرہے۔ اسی وجہ سے توآج ہرجگہ یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیاخیبرپختونخوامیں آنے والی حکومتوں نے اپنی آئینی اور عوامی ذمہ داریوں کو ترجیح دی یا اس کی سیاسی توانائیاں عمران خان کی رہائی، احتجاجی سیاست اور سیاسی بیانیے کے گرد گھومتی رہیں؟ یہ بحث محض سیاسی مخالفت تک محدود نہیں بلکہ عام شہری کی روزمرہ زندگی، بلدیاتی نظام کی فعالیت، عوامی مسائل کے حل اور حکومتی ترجیحات سے جڑی ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی نے ہمیشہ خود کو ایک ایسی جماعت کے طور پر پیش کیا جو روایتی سیاست کے مقابلے میں عوامی خدمت،........
