menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aage Barhna Hai, To Parhna Hai

30 0
08.10.2026

آگے بڑھنا ہے، تو پڑھنا ہے

خالقِ کائنات نے اپنے حبیب، ہمارے آقا و مولا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر جب پہلی وحی نازل فرمائی تو اس کا آغاز ایک ایسے لفظ سے ہوا جس نے انسانی تاریخ کا رخ بدل دیا:

اِقُرَأُ بِاسُمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ

"پڑھیے اپنے پروردگار کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ "

یہ محض ایک آیت نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک پیغام ہے کہ علم اور انسان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ اسلام کی آخری کتاب کا آغاز ہی "اقرأ" یعنی "پڑھ" سے ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ انسانی ترقی کا بنیادی راستہ علم سے ہو کر گزرتا ہے۔ جہالت کے اندھیروں سے نکلنے کا سب سے مؤثر ذریعہ علم ہی ہے۔ آج دنیا سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ترقی کی رفتار کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے ساتھ ساتھ ہر روز اپنے ہی گزشتہ مقام سے ہے جستجو کہ خوب سے خوب تر کہاں کے مصداق آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لیکن دوسری طرف ہمارے ہاں تعلیم کے حوالے سے ایک عجیب سی سوچ بھی جنم لے رہی ہے۔ جب ایک نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ اگر ڈگری سے نوکری نہیں ملتی تو پھر اتنی تعلیم کا فائدہ کیا؟ کیوں نہ بچوں کو مختصر مدت کے ہنر سکھا کر جلد روزگار کے قابل بنا دیا جائے؟

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو ہنر، ٹیکنیکل اور ووکیشنل تعلیم کی اشد ضرورت ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ رسمی تعلیم اپنی اہمیت کھو چکی، تعلیم اور ہنر ایک دوسرے کے متبادل نہیں، ایک دوسرے کے معاون ہیں۔

ہنر........

© Daily Urdu