menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hazaron Khwahishen

34 0
19.08.2026

صبح کا حال یوں ہوتا ہے کہ اٹھ کر کافی، سگریٹ اور پھر نیند میں کچھ چننا ہوتا ہے۔ ناشتے کا حق غیر کو دینے پر شرمندگی ہوتی ہے۔ نوکری ایک ایسی ہے جہاں اپنی موجودگی اور غیر موجودگی ایک برابر، سو اپنی موجودگی خود پر ثابت کرنے کے لیے خود ہی چلے جاتے ہیں۔

شہر ریٹائرڈ لوگوں سے بھرا ہے۔ جو کافی اور وائن کے پیاسے، شہر بھر کے کیفوں کے گلاسوں اور کپوں پر اپنے بوڑھے لبوں کے نشان چھوڑتے جاتے ہیں۔ ایک دریا، جو سوئٹزرلینڈ کو جاتا ہے، شہر سے ہو کر گزرتا ہے، جس پر بھاری جہاز نہایت سست روی سے رینگتے ہیں، تو فکر ہوتی ہے کہ یہ وقت پر پہنچیں گے بھی یا نہیں۔ اسی پانی میں چھ لوگ ایک کشتی کو چپو مارتے نکلتے ہیں تو ان کو آنے والی رات کی نیند پر رشک ہوتا ہے۔

رات کی نیند سے یاد آیا کہ اک رات ایسی بے دل اتری کہ خواہش کی کہ کوئی آسیب ساتھ آ کر رہنے لگے۔ اگر وہ گوشت کا شوقین ہو تو فریج کا نچلا خانہ اسے دکھا دوں، اگر خون کا پیاسا نکلے تو اپنی کلائی آگے بڑھا دوں۔

ایک مکڑی، جو کمرے کی چھت پر رہنے لگی تھی، اب جالا بنا کر ویرانی چھوڑ گئی ہے۔ پہلے اس کے........

© Daily Urdu