menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Tabeer Ko Tarasti Tabdeeli

31 0
30.09.2026

تعبیر کو ترستی تبدیلی

پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں مسلسل چودہ سالہ حکمرانی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں نعروں کی دلکشی اور حقیقت کی تلخی آمنے سامنے آ چکی ہیں۔ دوہزار تیرہ میں تبدیلی کے خواب دکھا کر اقتدار میں آنے والی جماعت کو عوام نے دو دہائیوں کے قریب طویل اور غیر متزلزل اعتماد بخشا تاکہ صوبے میں ایک انوکھا اور پائیدار انتظامی ماڈل قائم ہو سکے۔ ابتدائی دور میں بااختیار بلدیاتی نظام اصلاحات اور تھانہ کلچر کی تبدیلی جیسے خوشنما دعوے کیے گئے جن کا باقاعدہ ڈھنڈورا بھی پیٹا گیا مگر جیسے جیسے سال گزرتے گئے ادارہ جاتی مضبوطی کا یہ سحر ٹوٹتا چلا گیا۔

تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بلند بانگ دعووں کے باوجود صوبے کا نچلا طبقہ آج بھی علاج معالجے کی بنیادی سہولیات سے محروم اور معیاری تعلیم کی تلاش میں در بدر بھٹک رہا ہے۔ ہسپتالوں کی حالت زار اور سرکاری سکولوں کی خستہ حالی اس تلخ سچائی کی گواہی دیتی ہے کہ زبانی جمع خرچ کو عملی اصلاحات کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ امن و امان کا معاملہ تو سب سے زیادہ دردناک بن چکا ہے جہاں دہشت گردی کی دوبارہ سر اٹھاتی لہر نے عوام کے سکون اور کاروباری حیات کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔

صوبائی قیادت نے اپنے وسائل اور توانائیاں عوام کی جان و مال کے تحفظ پر صرف کرنے کے بجائے ہمیشہ وفاق سے محاذ آرائی اور سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی نذر کیں جس کے نتیجے میں صوبے کا انتظامی ڈھانچہ زبوں حالی کا شکار ہوتا چلا گیا چودہ برس کا یہ لمبا سفر جو ایک سنہری انقلاب کی امید کے........

© Daily Urdu