menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Qaum Default Kar Gayi

19 0
14.10.2026

بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط اور حکومتی دعوؤں کی کشمکش کے درمیان پستا ہوا عام پاکستانی اس وقت معاشی وجود کی جنگ لڑ رہا ہے۔ بجلی اور ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور سردیوں کی آمد سے قبل پرواز کرتی ہوئی مہنگائی نے عام گھرانے کے بجٹ کو تباہ کر دیا ہے جہاں بنیادی غذائی ضرورتیں پوری کرنا بھی ایک امتحان بن چکا ہے۔ ایک طرف بے لگام بیوروکریسی اور حکومتی اراکین کی شاہ خرچیاں اور پروٹوکول کی روایت ملکی معیشت پر بوجھ بنی ہوئی ہے تو دوسری طرف پیداواری لاگت کے بھاری بوجھ تلے دبے ایکسپورٹرز اور مینوفیکچررز دم توڑ رہے ہیں۔ اگر تاجروں کو فوری سہولیات نہ دی گئیں اور ان کی پیداواری لاگت کم نہ کی گئی تو پاکستان کی معیشت آئندہ چند سالوں میں مکمل جمود اور شدید دباؤ کا شکار ہو جائے گی جس سے برآمدات کے خاتمے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے سنگین بحران کا خدشہ ہے۔ ملک کی آمدن میں کمی اور اخراجات میں ناپائیدار اضافے کی سب سے بڑی وجہ اشرافیہ کو دی جانے والی اربوں روپے کی مراعات غیر پیداواری شعبوں پر حد سے زیادہ اخراجات ٹیکس کے نظام میں عدم مساوات اور ہنر مند افراد کی بیرون ملک منتقلی ہے۔ ان تمام تلخ حقائق سے نجات حاصل کرنے کے لیے حکومتی سطح پر پروٹوکول کے خاتمے اور سادگی کو نفاذ کا حصہ بنانا ہوگا ورنہ یہ معاشی خلیج پورے معاشرتی توازن کو نگل جائے گی۔

دنیا کی تاریخ ایسے ممالک کے درخشندہ........

© Daily Urdu