menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kachre Ke Drum Se Khushbu Ki Tawaqo

23 0
22.08.2026

کچرے کے ڈرم سے خوشبو کی توقع

ہم ایک عجیب قوم ہیں جس نظام نے ہماری تین نسلوں کو وعدوں نعروں اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا ہم آج بھی اسی نظام کے دروازے پر امید کی دیگ چڑھائے بیٹھے ہیں۔ 79 برس کا تجربہ ہمارے سامنے ہے، نتائج ہمارے سامنے ہیں کردار ہمارے سامنے ہیں، مگر پھر بھی ہماری امید ختم نہیں ہوتی۔ ہر چند سال بعد چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، جھنڈے بدلتے ہیں، مگر کھیل وہی رہتا ہے عوام وہی رہتے ہیں، مسائل وہی رہتے ہیں اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے کردار نئی پیکنگ کے ساتھ وہی پرانا مال قوم کو بیچتے رہتے ہیں۔

شاید ہم یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کچرے کے ڈرم سے خوشبو کی توقع کرنا امید نہیں جن لوگوں نے گزشتہ 79 برس میں قوم کو وعدوں نعروں، دھوکوں اور فریب کے سوا کچھ نہیں دیا ہم آج بھی انہی سے بہتری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ آخر ہم اتنے کم فہم اتنے بھولے اور اتنے جلدی سب کچھ بھول جانے والے کیوں ہیں؟ جس نظام نے سات دہائیوں سے زیادہ عرصے میں عام آدمی کو انصاف، عزت، روزگار تعلیم، صحت اور تحفظ نہیں دیا اس سے اچانک کسی معجزے کی امید رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کچرے کے ڈرم سے خوشبو کی توقع رکھنا۔

اگر واقعی ہمیں اس ملک اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کی فکر ہے تو پھر اس فرسودہ اور عوام دشمن نظام کی اصلاح کے لیے پرامن آئینی........

© Daily Urdu