menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Doobta Hua Lahore

19 0
27.07.2026

پچھلے پورے ہفتہ میں ہونے والی موسلا دھار بارش نے لاہور کے اکثر علاقوں کو پانی میں ڈبویا۔ شدید بارشوں کے سامنے شہری انتظامیہ اور واسا کی ٹیم بھی بے بس دکھائی دے رہے تھے۔ عام مضافاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ ڈیفنس، جوہر ٹاؤن، گلبرگ جیسے پوش علاقے بھی بارش کے پانی سے نہ بچ سکے۔ اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والی بارش کے چند گھنٹوں میں اکثر علاقوں سے پانی کا اخراج کردیا گیا تھا جس کے لئے یقینی طور پر حکومت، واسا اور شہری انتظامیہ کی تعریف کی جانی چاہیئے۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ پچھلے ایک سال میں لاہور سمیت پنجاب کے اٹھائیس شہروں میں سیوریج کے حوالے سے بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے اور لاہور کے شہریوں نے تو پورا ایک سال سیوریج کے گڑھوں اور ٹوٹے پھوٹے راستوں کا سامنا کیا ہے۔ اس پر ورلڈ بینک کے قرضے سے خطیر رقم خرچ ہوئی ہے اور کہا یہی جارہا تھا کہ یہ سیوریج کی آپ گریڈیشن تیس سال تک کی شہری ضروریات کے کئے کافی ہوگی۔ پھر بھی پورے لاہور شہر کا ڈوب جانا یہ سوال کھڑے کرتا ہے کہ جو سیوریج کا انتظام ایک سال کے بعد ہی جواب دے گیا ہے تو تیس سال کے بعد اس نے کیا کام کرنا ہے۔ اس حوالے سے بھی وزیر اعلٰی کو نوٹس لینے کی ضرورت ہے۔

حکومتی وزراء ڈوبے ہوئے لاہور اور سیوریج کی بری کارکردگی پر سیکھنے کی بجائے اس بات کا کریڈٹ لے رہے ہیں کہ ڈوبنے کے چند گھنٹوں بعد ہی شہر سے پانی کا نکاس ہوجانا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ اب اس دعوے پر نوحے پڑھنے کو ہی جی کرتا ہے کیونکہ جو پانی لوگوں کا کروڑوں روپے کا نقصان کر گیا اور لوگوں کے گھروں کے سامان اور ڈھانچے کا........

© Daily Urdu