menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kabar Bechne Wali Qaum

26 0
16.07.2026

کہتے ہیں ایک بادشاہ نے اپنے درباریوں کو سبق دینے کے لیے برف کی ایک بڑی سل منگوائی۔ حکم ہوا کہ اسے ایک درباری سے دوسرے درباری کے ہاتھوں گزارتے ہوئے تخت تک پہنچایا جائے۔ جب برف کی وہ سل آخرکار بادشاہ کے ہاتھ میں پہنچی تو اس کا بیشتر حصہ پگھل چکا تھا اور ہاتھ میں صرف تھوڑا سا پانی رہ گیا تھا۔ بادشاہ نے مسکرا کر کہا، "ریاست کے معاملات بھی میرے پاس اسی طرح پہنچتے ہیں۔ حقیقت راستے ہی میں پگھل جاتی ہے۔ میرے پاس صرف اتنی خبر آتی ہے جتنی میرے اردگرد کے لوگ آنے دیتے ہیں"۔

صدیاں گزر گئیں، مگر لگتا ہے ہمارے نظام میں اب بھی برف کی وہ سل مسلسل پگھل رہی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک ریڑھی والے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ وہ رو رہا تھا۔ اس کے آنسو اس کی ذاتی محرومی کا نوحہ نہیں تھے۔ بلکہ ایک پورے انتظامی نظام پر فردِ جرم تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ میونسپل کارپوریشن کے اہلکار آئے، اس کی ریڑھی اٹھا کر سڑک پر دے ماری۔ سامان ادھر اُدھر بکھیر دیا اور چند لمحوں میں تیس چالیس ہزار روپے کی ریڑھی کباڑ بن گئی۔

اس کے بعد ایسے کئی لوگوں سے بات ہوئی جن کے ساتھ یہی سلوک ہو چکا تھا۔ سب کی کہانی ایک جیسی تھی۔ قانون نافذ کرنے والے اہلکار تجاوزات ختم کرنے نہیں آتے۔ گویا غصہ اتارنے آتے ہیں۔ سامان کو اس طرح پھینکا جاتا ہے کہ دوبارہ استعمال کے قابل نہ رہے۔ برسوں کی محنت چند منٹوں میں ملبہ بن جاتی ہے۔ مجھے ایک اور منظر........

© Daily Urdu