Jungle Jungle Aag Lagi Hai, Nagri Nagri Tha Nahi Hai
دلدلی زمین میں اگنے والے درخت سانس لینے کے لئے اپنی صورت بدل لیتے ہیں۔ یہ تبدیلی کسی جمالیاتی ذوق کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ بلکہ بقا کی ایک سادہ سی منطق ہے۔ جب مٹی آکسیجن مہیا کرنے سے قاصر ہو جائے تو جڑیں زمین کے اندر مرنے کے بجائے باہر آجاتی ہیں۔ پانی سے اوپر، ہوا کی سمت۔ سائنس انہیں (Pneumatophores) کہتی ہے، یعنی پاتے نہیں راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے۔
یہ اصول درختوں تک محدود نہیں۔ جانور بھی اسی اصول پر عمل کرتے ہیں۔ مینڈکوں کی آنکھیں سر کے بالکل اوپر ہوتی ہیں، اسی لئے وہ پانی میں چھپے رہ کر بھی سطحِ آب سے اوپر دیکھ سکتے ہیں۔ یہ ترتیب انہیں شکاریوں کے خطرے سے پہلے خبردار کر دیتی ہے۔ گرگٹ کی بے شمار اقسام موڈ، درجہ حرارت اور ماحول کے مطابق گہرے یا ہلکے رنگ اختیار کرتی ہیں۔ آکٹوپس اور کٹل فِش اپنی جلد کے خلیات (Chromatophores) کو سکیڑ یا پھیلا کر فوری طور پر ماحول کا رنگ اپنا لیتے ہیں۔
آرکٹک فاکس سردیوں میں برف کے مطابق سفید اور گرمیوں میں بھورے رنگ کی ہو جاتی ہے۔ فلاؤنڈر مچھلی سمندر کی ریت یا چٹانوں کے مطابق اپنا رنگ اور نمونہ بدل لیتی ہے۔ جانور عام طور پر شکار سے بچنے، شکار کرنے یا درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لئے رنگ بدلتے ہیں۔ ہشت پا سوتے ہوئے کچھ اور رنگ کا ہوتا ہے، جاگتے ہی کچھ اور۔ سائنس دان اسے محض رنگت کی تبدیلی نہیں، بلکہ حالتِ شعور کی علامت قرار دیتے ہیں۔
فطرت میں بقاء کا اصول شعورکی یہی تبدیلی ہے۔ جو ٹھہرے ذرا کچل دیے........
