Basant: Patang Urana Bamuqabla Patang Katna
لاہور میں دو روزہ بسنت 7 اور 8 فروری کو منائی جا رہی ہے۔ ایک دن گزر چکا دوسرا آج ہے۔ چھتوں پر پتنگیں، گلیوں میں ڈھول، ہواؤں میں موسیقی اور سڑکوں پر جشن کا سماں ہے۔ مگر اسی ملک میں صرف ایک دن پہلے جمعہ 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی ایک امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا جس میں 31 افراد شہید اور 161 سے زائد شدید زخمی ہوئے۔ قوم ابھی لاشیں اٹھا رہی تھی، زخمی اسپتالوں میں کراہ رہے تھے، مائیں اپنے بیٹوں کو ڈھونڈ رہی تھیں پنجاب حکومت نے اپنی سرگرمیاں منسوخ کر دیں جبکہ کچھ حکومتی وزراء بسنت مناتے نظر آئے جبکہ لاہور میں بسنت کی خوشیاں جوں کی توں جاری رہیں۔ یہ منظر ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنے اجتماعی رویّے پر سنجیدگی سے سوال کریں! کیا کسی زندہ قوم کا ردِعمل ایسا ہی ہوتا ہے؟
بسنت برصغیر کا قدیم تہوار ہے جس کی جڑیں ہندو تہذیب سے ملتی ہیں نہ کہ اسلامی تہذیب سے مگر بعد ازاں یہ روایت پنجاب میں پھیلی اور لاہور میں پتنگ بازی کے ساتھ منسلک ہوگئی۔ بعض حلقے اسے صوفی روایت سے جوڑتے ہیں اور حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا حوالہ دیتے ہیں کہ ان کے عہد میں امیر خسروؒ نے بہار کی آمد پر........
