Aik Thi Rani
ذوالفقارعلی بھٹو نے اپنی زندگی کی ابھی 25 بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ ان کے گھر ایک ایسی شخصیت کا جنم ہوا جسے تاریخ میں سنہری الفاظ کے ساتھ خراج عقیدت پیش کیا جاتا رہے گا۔ ایسی شخصیت جس سے اس کے بابا کو سب سے زیادہ پیار تھا، جس کی تعلیم و تربیت میں بابا نے کوئی کسرنہ چھوڑی۔ بھٹو ایک انسان شناس شخصیت تھے اس لئے انہوں نے شروع دن سے ہی پہچان لیا تھا کہ ان کی بیٹی ان کا نام خوب روشن کرے گی۔ محترمہ نے 54 برس کی عمر پائی جس کے ابتدائی 24برس عظیم باپ کی شفقت کے سائے میں گزرے۔ باقی ماندہ 30 سال دو حکومتوں میں ملنے والے چار سالہ اقتدار کے سوا سیاسی اور ذاتی دکھوں پر مشتمل تھے۔
مجموعی طور پر اسے ایک دکھ بھری زندگی ہی کہا جاسکتا ہے۔ وہ 21 جون 1953 کو پیدا ہوئیں اور 4 جولائی 1974تک یقیناً شاندار زندگی گزاری۔ پہلے کراچی میں تعلیم حاصل کی پھر آکسفورڈ چلی گئیں۔ دوران تعلیم انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی وزارت عظمیٰ کا زمانہ دیکھا۔ وہ انہیں اپنی سیاسی جانشین کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے اور بالآخر باپ کے بعد اس کی ورثہ اس کی بیٹی کو منتقل ہوا۔ محترمہ بی بی کے دکھوں کی شروعات یہیں سے شروع ہوتی ہے۔ انہیں سیاست کا عملی تجربہ تھا نہ ہی پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں سے شناسائی۔ اس کے باوجود بھٹو شہید نے ان کی سالگرہ پر جیل سے لکھے گئے اپنے آخری خط میں انہیں اس جنگ کی قیادت سونپ دی جو ان کی پھانسی کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس خط کا ایک پیراگراف ملاحظہ ہو۔
"زندگی محبت کاملہ ہے، نیچر کی ہر خوبصورتی کے ساتھ اظہار عشق کیا جاتا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہے کہ میرا سب سے زیادہ جذباتی عشق اور جذبا ت کو تیز یا جسم میں جھرجھری پیدا کردینے والا رومانس عوام کے ساتھ رہا ہے۔ سیاست اور عوام کے درمیان بھی نہ ختم ہونے والی شادی ہوتی ہے۔ یہی وجہ........
