Retirement Ke Baad (4)
جو انسان بھی سرکاری نوکری شروع کرتا ہے، قطعاً مستقل نہیں ہوتی۔ مخصوص مدت گزارنے کے بعد رٹائر ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں رٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ برس کی ہے۔ مطلب یہ آپ نے جس طرح اور جس سطح کی بھی سرکاری ملازمت کی ہے، مقررہ وقت پر بہر حال رٹائر ہونا ہے۔ سرکاری ملازمین کی واضح اکثریت اس عمل سے بہت خائف رہتی ہے۔
چند افسران تو سیاسی خانوادوں کے تلوے چاٹتے رہتے ہیں تاکہ انھیں چند مزید برس کی نوکری کسی بھی شرط پر مل جائے۔ قلیل سے بڑھاوے کے لیے یہ کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ وقت بھی ختم ہوتے بالکل دیر نہیں لگتی۔ چنانچہ ایک نہ ایک دن، انھیں میز، کرسی، دفتر اور گھنٹی کے کلچر سے باہر آنا پڑتا ہے۔ اکثریت کے لیے یہ کافی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے۔ انھیں بالکل سمجھ نہیں آتا کہ اب وہ باقی زندگی کیسے گزاریں گے؟ یہ حد درجہ سنجیدہ سوال ہے۔ ہر انسان کا جواب بھی اپنا اپنا ہے۔ ضروری نہیں کہ ایک شخص کے خیالات دوسرے سے ملتے جلتے ہوں۔
افسروں کی وہ قسم، جنھوں نے کبھی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دی ہو، ماتحتوں اور سائلین کے لیے عذاب سے کم نا ہوں، ان کی رٹائر منٹ کے بعد کا مسئلہ سب سے سنگین ہوتا ہے۔ اس قبیل کے افسروں نے سائلین کو کبھی عزت نہیں دی ہوتی اور انھیں قطعاً اپنے برابر نہیں گردانا ہوتا۔ کوئی بھی انسان، جس سے انھوں نے منفی برتاؤ کیا ہو، وہ ہر طرح ان سے درگزر کرتا ہے۔ بلکہ دور بھاگتا ہے۔ اگر ماضی کا جابر افسر، راستے میں نظر آئے تو اکثر جاننے والے راستہ بدل لیتے ہیں۔ کوشش کرتے ہیں کہ آمنا سامنا نہ ہو جائے۔ بڑے بڑے تگڑم خان افسر تھوڑے عرصے میں اس رجحان کوسمجھ لیتے ہیں۔ شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے ان میں سے کثیر تعداد، اپنے گھروں سے باہر نکلنا چھوڑ دیتی ہے۔
نوکروں، کو اپنے شاندار ماضی کے قصے سناتے رہتے ہیں۔ کیونکہ ان سے بات کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا۔ گوشہ نشینی اختیار کرنا، ان کی مجبوری بن جاتی ہے۔ انھیں کوئی خوش دلی سے ملنے بھی نہیں آتا۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے لوگ، جو اپنی سرکاری نوکری میں ساتھیوں کے لیے خوف کی علامت تھے، بہت جلد ملک الموت کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔ متعدد بیماریاں انھیں زندہ نہیں رہنے........
