menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gehri Neend (2)

32 6
16.02.2026

ہمارے جیسے ملکوں میں میرٹ کی ایک یقینی تعریف موجود ہے یعنی جو طاقتور کہے گا یا حکم صادر کرے گا، وہی میرٹ کہلائے گا۔ یہ ہماری بدقسمتی کا وہ نوحہ ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے پا رہا۔ سات دہائیاں گزر گئیں مگر ہم لوگ، صرف دو طبقوں میں تقسم ہو کر لڑ مر رہے ہیں۔ طاقتور یا زور آور لوگ اور دوسرا، کمزور افراد۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ شواہد یہی ہیں کہ یہ تفریق جاری و ساری رہے گی۔

یہ معاملہ صرف تین چار برس کی کہانی نہیں ہے بلکہ ساڑھے چار ہزار برس پر محیط طویل داستان ہے جو اب اس خطے کا مقدر بن چکی ہے۔ امیر طبقہ ہی حکومت کرے گا۔ اسی کی آل اولاد پھلے پھولے گی اور اس کے ساتھ جڑے ہوئے لوگ ہی نوازے جائینگے۔ یہ اب کوئی اصول نہیں بلکہ سماجی، سیاسی اور اقتصادی قانون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس سے کوئی مفر حاصل نہیں ہے۔

کمزور طبقہ جسے عوام کا نام بھی دیا جا سکتا ہے، صدیوں سے بے معنی ہیں۔ ان کی سرے سے کوئی اہمیت ہے ہی نہیں۔ سچ صرف یہی ہے جو ہمارے ملک میں دوام حاصل کر چکا ہے۔ ملک بننے یا بنانے سے لے کر آج تک، ہماری مقتدرہ نے کوئی ایسی معمولی سی بھی حرکت نہیں کی جس سے ہم جدت اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ ہاں، ہم اپنے حکمران طبقے کی دولت میں اضافے کو ترقی کہہ سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے اس کا عوام کی زبوں حالی یا پیہم غربت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حقیقت پسندی یہی ہے کہ ہم اس تقسیم کو قطعی طور پر مان لیں اور اسے اپنی قسمت قرار دے ڈالیں۔ مذہبی طبقہ تو بڑے اہتمام سے اس مصنوعی اور بے اصولی کو ذاتی مقدر کے فلسفے میں دفن کر چکا ہے اور وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں۔ عوام میں غربت کو " امتحان" قرار دے دیا گیا ہے۔ سمجھایا جا رہا ہے کہ آپ کو زندگی سے تعلق رکھنے والی ہر نعمت، مرنے کے بعد نصیب ہوگی۔

ایک اور مسئلہ بھی ہے، ملکوں میں دائیں اور بائیں بازو کی سوچ رکھنے والے ان گنت لوگ ہوتے ہیں۔ ان کی عملی اور ذہنی جدوجہد بھی ہوتی ہے۔ برصغیر میں تقسیم سے پہلے، دونوں اطراف کی سوچ موجود تھی۔ پاکستان بننے کے ابتدائی دور میں بھی یہ تفریق موجود تھی۔ ایسی کامیاب سیاسی جماعتیں بھی تھیں جو جوہری لحاظ سے عوام کی بھلائی کو متضاد طرز سے........

© Daily Urdu