2025 Ki Sciency Tehqiqaat
2025 کی سائنسی تحقیقات
راک فیلر یونیورسٹی (Rock feller) نے سائنس کی نئی دریافت شدہ جہتوں پر ایک تحقیقی مقالہ جاری کیا ہے۔ دس بارہ ماہ میں مغرب نے جو حیرت انگیز سائنسی تحقیقات کی ہیں، وہ نہ صرف محیر العقول ہیں بلکہ ان میں سے اکثر انسانی سوچ اور صحت کے زاویوں کو تبدیل کر رہی ہیں۔ اس سارے کام کے پیچھے ان گنت سائنسدانوں کی وہ محنت اور لگن ہے جس کا ہمارے جیسے معاشرے تصور تک نہیں کر سکتے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ اس سائنسی سفر میں ایک بھی مسلمان ملک یا سائنسدان شامل نہیں ہے۔
آپ ہر چیز کو چھوڑ دیجیے، اپنے دیس پر نظر ڈالیں۔ گزرے ہوئے ایک برس میں ہم نے کیا کارنامے سرانجام دیئے ہیں؟ طالب علم کی دانست میں معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے چینی، ناجائز دولت کمانے کی پاگلوں جیسی ہوس، عام لوگوں کا معاشی استحصال اور ایک دوسرے کے گلے کاٹنے کے سوا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ پورا سماج ایک زہر آلود فضا میں سانس لے رہا ہے۔ جس میں کسی قسم کا سوال پوچھنے پر پابندی ہے۔ ہمارے رویے بھی سائنسی تحقیق کے خلاف ہیں بلکہ یوں عرض کروں گا کہ ہماری اکثریت ماضی کی کہانیوں اور لوریوں کو سننے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔
حال کی بربادی اور مستقبل کی پرچھائی ہمارے ذہن کے ہر فیصلے سے باہر ہے۔ مگر مغرب ایسا نہیں کر رہا۔ وہاں انسان کو ترقی دینے کے لیے ہوش ربا کام چوبیس گھنٹے جاری و ساری ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سائنس ان کا اوڑھنا بچھونا اور طرز زندگی ہے۔ جیمزویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے، وہ کائناتوں کو بنتے اور ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ وقت کی قید سے آزاد ہو کر سوچ کے وہ دھارے سامنے لا رہے ہیں۔ جس کا تصور تک ہمارے کم علم معاشرے میں نہیں ہوتا۔ ذرا نظر دوڑائیے کہ سابقہ دس بارہ ماہ میں سائنس کے حوالے سے کیا کیا، نایاب کام سرانجام پایا ہے۔
کینسر ایک ایسا موذی مرض ہے۔ جس کے علاج پر دہائیوں سے کوشش ہو رہی ہے۔ تھوڑے عرصے سے Immunotherapyنے اس کا علاج ممکن بنا دیا ہے۔ ہمارے ملک میں اس Therapy کرنے کے کتنے بین الاقوامی سطح کے اسپتال ہیں، اس پر بات کرنی وقت کا ضیاع ہے۔ مگر اس طرز........
