System Tabah, Talkh Noha
قومیں صرف جغرافیے سے نہیں بنتیں۔ بلکہ ایسے نظام سے بنتی ہیں جن پر عوام کو اعتماد ہو۔ جب نظام انصاف بروقت انصاف فراہم کرے، سرکاری ادارے عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں، قانون سب کے لیے یکساں ہو اور ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ بن جائے تو ترقی خود راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ لیکن جب نظام چند افراد کے مفادات کا اسیر بن جائے تو پھر قومیں وسائل کے باوجود محرومی، انتشار اور مایوسی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
حالیہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ اعتراف کیا کہ "سسٹم تباہ ہو چکا ہے"۔ بظاہر یہ ایک مختصر جملہ ہے، مگر اس کے اندر گزشتہ اٹھہتر برس کی حکمرانی کا ایک تلخ نوحہ پوشیدہ ہے۔ یہ اعتراف اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ وہ نظام جس پر ریاست کھڑی ہوتی ہے، وہ عوام کا اعتماد کھو چکا ہے۔ اگر آج ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی حلقوں سے یہ آواز بلند ہو رہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کربیٹھیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں یہ احساس پیدا ہونے میں واقعی اٹھہتر سال لگ گئے؟
پاکستان کا المیہ یہ نہیں کہ اس کے پاس وسائل نہیں، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ یہاں وسائل سے زیادہ نظام کی کمی ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ ریاستوں پر نظر ڈالیں وہاں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں مگر نظام نہیں بدلتا۔ جاپان جنگ عظیم دوم کے بعد کھنڈرات سے اٹھ کر دنیا........
