Baap Jis Ki Qadr Dair Se Hoti Hai
باپ جس کی قدر دیر سے ہوتی ہے
زندگی ایک ایسا سفر ہے جس میں انسان ہر عمر کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اس کی سوچ بدلتی ہے، ترجیحات بدلتی ہیں اور تجربات اسے وہ سبق سکھاتے ہیں جو کتابیں بھی نہیں سکھا سکتیں۔ مگر اس سفر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ انسان جن ہستیوں کی سب سے زیادہ قدر کرنی چاہیے، ان کی عظمت کا احساس اکثر اس وقت ہوتا ہے جب وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ انہی عظیم ہستیوں میں سب سے نمایاں مقام والد کا ہے۔ باپ وہ سایہ ہے جو اپنی خواہشات قربان کرکے اولاد کے خوابوں کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتا ہے، مگر افسوس کہ اولاد کو اس قربانی کی قیمت بہت دیر سے سمجھ آتی ہے۔
پانچ سال کا بچہ اپنے والد کو دنیا کا سب سے طاقتور انسان سمجھتا ہے۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کے ابو ہر مشکل حل کر سکتے ہیں، ہر سوال کا جواب جانتے ہیں اور ہر خوف سے بچا سکتے ہیں۔ لیکن جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، ویسے ویسے انا بھی........
