Teesri Aalmi Jang Ki Taraf Barhta Trump
ہوش سنبھالنے کے برس سے مسلسل سن اور پڑھ رہا ہوں کہ انسان کبھی جانوروں کی طرح ہی تھا۔ وحشت اس کی فطرت تھی۔ خود غرض ہونے تک ہی محدود نہ تھا۔ دوسروں کو اپنا مطیع وفرمانبردار رکھنا اس کی جبلت بن چکا تھا۔ کئی صدیاں گزرجانے کے بعد مگر اللہ کے نیک بندوں نے علم کی روشنی پھیلانا شروع کردی۔ انسانوں میں رحم کے جذبات کو اجاگر کیا۔ انسان مگر تبدیل ہونے سے انکاری رہے۔
اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے دنیا کے وسیع ترین خطوں پر اجارہ داری قائم کرنے کو ڈٹ گئے۔ افریقہ، ایشیاءاور لاطینی امریکہ کے تقریباََ ہر ملک کو برطانیہ، فرانس، ہالینڈ اور سپین جیسے سامراجی ممالک نے اپنا غلام بنالیا۔ "مزید" کی ہوس نے بالآخر بالاتر سامراجی قوتوں ہی کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیا۔ اس کے نتیجے میں دنیا کو ایک نہیں دو عالمی جنگوں کو یکے بعد دیگرے برداشت کرنا پڑا۔ دوسری جنگ عظیم کے انجام پر ایٹم بم بھی استعمال ہوگیا۔ ان دو جنگوں نے جو تباہی پھیلائی۔ ایٹم بم کی دہشت دنیا پر عیاں ہوئی تو انسان "انسان" بننے کو مجبور ہوگیا۔
بچپن سے جوانی کی حدود اور پھر بڑھاپے میں داخل ہوکر جو کچھ کئی راتوں کو دیر تک جاگتے ہوئے پڑھااور سنا وہ سب بدھ21جنوری 2026ءکی شام مجھے قطعاََ جھوٹ اور افسانوی محسوس ہوا۔ سورج ڈھلتے ہی ٹی وی کھول کر سی این این کی سکرین پر آنکھیں جمائے ہوئے تھا۔ تقریباََ ساڑھے چھ بجے کے قریب دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے صدر ٹرمپ نے جدید "تہذیب" کے مرکز مانے ایک ملک سوئٹزرلینڈ میں دنیا بھر کی اشرافیہ کے نمائندہ اجتماع سے ڈیوس کے شہر میں خطاب کرنا تھا۔ موصوف کا خطاب شروع ہوا تو آٹھ بج کردس منٹ تک چلتا رہا۔ اس کے بعد سوال جواب بھی ہوئے۔ وہ سنتے اور دیکھتے ہوئے میں خود........
