menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mustafa Kamal Se Maaf Karo Aur Aage Barho Ka Taqaza

11 0
29.01.2026

مصطفیٰ کمال کی "سیاسی بصیرت" میری نگاہ میں 2018ء کے انتخابات کے قریب بے نقاب ہوگئی تھی۔ موصوف ایم کیو ایم کی جنرل مشرف کی سرپرستی میں قائم ہوئی "مقامی حکومت" کی ایک کامیاب اور حتمی مثال کی صورت مشہور کروائے گئے۔ بات یہ پھیلائی گئی کہ اگر وطن عزیز کے ہر بڑے شہر کو ان جیسا مئیر نصیب ہوجائے تو اس شہر کو وزارت عظمیٰ یا وزارت اعلیٰ کے حصول کوبے چین خود غرض سیاستدانوں کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوگی۔ کچھ نام نہاد "عالمی جرائد" کی بدولت ا نہیں بلکہ دنیا کے لئے قابل تقلید ماڈل کی صورت بھی پیش کیا گیا۔

جنرل مشرف کی اقتدار سے فراغت کے بعد مگر وہ سیاسی یتیم ہوئے نظر آنا شروع ہوگئے۔ تنہائی کے اس عالم میں بتدریج اپنے سیاسی قائد سے بھی دور ہوتے ہوئے بالآخر لندن میں برسوں سے پناہ گزین الطاف حسین کو برابھلا کہتے ہوئے اپنی آزادی، بلوغت اور خودمختاری کا اعلان کردیا۔ ان کے آزاد اور خودمختار ہوئے ذہن نے "پاک سرزمین" کے نام سے ایک جماعت بھی قائم کرلی۔ خیال تھا کہ یہ جماعت الطاف حسین سے مایوس ہوئے اردو سپیکنگ نوجوانوں کو بھتہ خور سیاست کا متبادل فراہم کرے گی۔ ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے ایم کیو ایم اور پاک سرزمین پارٹی مگر بقول صوفی تبسم اپنی چونچ اور دم گنوابیٹھے۔ کراچی کے ووٹروں کی ایک مؤثر تعداد کو دریں اثناء تحریک انصاف کی صورت ایک ایسی جماعت کے طورپر ابھرتی محسوس ہوئی جو لسانی اور نسلی تقسیم سے بالاتر ہوکر عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہ رہی تھی۔ تحریک انصاف نے مگر کئی وجوہات کی بناء پر اپنے چاہنے والوں کو مایوس کیا۔ جن "باریاں لینے والی" سیاسی جماعتوں کو اس نے پچھاڑنا تھا وہ بھی باہمی اختلافات بھلاکر اس کی حکومت گرانے کو یکجا ہوگئیں۔ نئی گیم لگی تو منہ پھٹ اصول پسند مشہور ہوئے مصطفیٰ کمال بھی "پاک سرزمین پارٹی" کی ہٹی بند کرنے کے بعد ایم کیو ایم میں واپس لوٹ آئے۔ ان دنوں اسی جماعت کے کوٹے پر کراچی کے قومی اسمبلی کے ایک حلقے سے منتخب........

© Daily Urdu