Do Number Danishwari Ke Dramay Rachane Se Meri Uktahat
دو نمبری دانشوری کے ڈرامے رچانے سے میری اکتاہٹ
لفظوں کو کالم کی ریڑھی میں رکھ کر دیہاڑی لگاتے مجھ جیسے قلم گھسیٹ دوستوں کی محفل میں بیٹھتے ہیں تو نہایت رعونت سے گلہ کرتے ہیں کہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ انٹرنیٹ نے ان کی توجہ کا دورانیہ مختصر بنادیا ہے۔ روزمرہّ زندگی ویسے بھی بہت دشوار ہوچکی ہے۔ لوگوں کے پاس فرصت نہیں کہ ہماری نسل کے افراد کی طرح ہاکر کی جانب سے گھر آئے اخبار کو ایک کونے میں لے جاکر غور سے پڑھیں۔ لکھے ہوئے حرف سے دوری نے لوگوں کو بے حس بنادیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
عیدالاضحیٰ کے طفیل طویل عرصے کے بعد روزانہ لکھنے اور بولنے کی مشقت سے چھ دن کا وقفہ ملا تھا۔ اس کے دوران میں فلمیں دیکھنا چاہتا تھا۔ نظر مگر کئی دنوں سے بستر کے دائیں ہاتھ موجود کتابوں کی الماری کے اوپر رکھی ایک کتاب پر ٹک گئی۔ اسے مکمل کرنے کی ٹھان لی۔ کتاب کے مصنف کے اچھوتے عنوان کے علاوہ اندازِ تحریر نے دل ودماغ کو سحر زدہ بنائے رکھا۔ اسے پڑھنے کے دوران آئے وقفوں میں بستر پر لیٹا مسلسل اعتراف کو مجبور رہا کہ لوگوں کو لکھے ہوئے لفظوں سے دور رکھنے کے حقیقی ذمہ دار مجھ جیسے قلم گھسیٹ ہیں۔
کسی اور کو دوش دینے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کو ترجیح دوں گا۔ رواں برس کے مارچ کا آغاز ہوتے ہی امریکہ اور اسرائیل ایران پر چڑھ دوڑے تھے۔ چند ہفتوں بعد جنگ بندی کا اعلان ہوگیا۔ دنیا کو تیل اور گیس کا کم از کم 25فی صد فراہم کرنے والی آبنائے ہرمز مگر جنگ کے نتیجے میں ایران کے کامل کنٹرول میں چلی گئی۔ دنیا کی واحد سپرطاقت ہونے کا دعوے دار ہونے کے باوجود امریکہ ایران کو آبنائے ہرمز بحری تجارت کے لئے کھولنے کو مجبوریا رضا مند نہ کرسکا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی ضد کو شکست دینے کے لئے تڑی لگائی کہ اس کے جنگی جہاز تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز........
