Budget Par Ittefaq e Raye Ki Janib Barhti Hukumat Aur Peoples Party Ki Siasat
بجٹ پر اتفاقِ رائے کی جانب بڑھتی حکومت اور پیپلز پارٹی کی سیاست
ٹھوس دلائل کے انبار لگادینے کے باوجود کم از کم میں بے ہنر اپنے قارئین اور ناظرین کی بے پناہ اکثریت کو اپنے اس دعویٰ پر اعتبار کرنے کو مائل نہیں کرپایا کہ حال ہی میں گلگت - بلتستان کی اسمبلی کے لئے ہوئے انتخابات نسبتاََ آزاد اور منصفانہ تھے۔ سرکار مائی باپ نے محض تحریک انصاف کو کھل کر کھیلنے کی گنجائش فراہم نہیں کی۔ باقی جماعتوں کیلئے میدان کھلارکھا۔ لوگوں کے اذہان میں یہ تاثر جم چکا ہے کہ پیپلز پارٹی سے اٹھارہویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل ہوئے چند اختیارات وفاق کے حوالے کردینے کی توقع ہے۔
اس تناظر میں ترجیح فی الوقت "سیدھی انگلی" سے گھی نکالنے کو دی جارہی ہے۔ پیپلز پارٹی اسی باعث گلگت-بلتستان میں واحد اکثریتی جماعت کی صورت ابھری ہے۔ وہ بآسانی مسلم لیگ (نون) کے ساتھ ملک کر ایک مستحکم حکومت بنا سکتی ہے۔ (نون) کو رضا مند کرنے کیلئے مگر وفاقی بجٹ سرعت سے منظور کروانے کے لئے سندھ اور بلوچستان میں قائم پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتوں کو اپنے اخراجات میں کمی لاکر وفاق کو اضافی رقوم فراہم کرنا ہوں گی۔
اٹھارہویں ترمیم کے تحت ملے اختیارات کے حوالے سے پیپلز پارٹی لچک دکھانے کو تیار نہیں ہوتی تو اسے "آزاد امیدواروں " کی حمایت درکار ہوگی۔ "آزاد" میں سے اکثر کے دل اب بھی تحریک انصاف کے ساتھ ہیں۔ سیاسی بقاء کی خاطر اس جماعت سے مگر "دوری" اختیار کئے ہوئے ہیں۔ "آزاد" حیثیت میں منتخب ہوئے اراکین کی........
