menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Paharon Se Buland Insaniyat

50 0
09.09.2026

پہاڑوں سے بلند انسانیت

میں اس خطۂ کوہسار کی طرزِ تعمیر، ثقافتی ورثے، تہذیبی انفرادیت اور فطری حسن پر اس سے پہلے بھی بہت کچھ لکھ چکا ہوں، مگر چودہ برس شہرِ قائد کی ہنگامہ خیز زندگی، شور، ہجوم اور نفسا نفسی میں گزارنے کے بعد جب دوبارہ اپنی اس دل آویز سرزمین پر قدم رکھا تو یوں محسوس ہوا جیسے میں کسی جگہ واپس نہیں آیا، بلکہ اپنی ہی روح کے کسی بچھڑے ہوئے حصے سے دوبارہ آ ملا ہوں۔ یہاں کی ہوا میں اپنائیت ہے، پہاڑوں کی خاموشی میں محبت کی آواز ہے اور ہر وادی جیسے دل کو اپنی طرف بلا کر کہتی ہے: تم آخر لوٹ ہی آئے۔

جگلوٹ سے گلگت، ہنزہ اور نگر تک صبح کے وقت کا منظر میرے لیے کسی خوب صورت خواب سے کم نہیں۔ پیر سے ہفتہ تک صبح سات بجے سے ساڑھے آٹھ بجے کے درمیان جب شاہراہوں، گلی کوچوں اور سڑکوں کے کنارے معصوم بچے اور بچیاں اپنے تعلیمی اداروں کی طرف جاتے یا اپنی وینوں کے انتظار میں نظم و ضبط سے کھڑے دکھائی دیتے ہیں تو دل بے اختیار خوشی سے بھر جاتا ہے۔ کہیں ننھے قدم علم کی طرف بڑھ رہے ہوتے ہیں، کہیں کتابیں سینے سے لگی ہوتی ہیں اور کہیں معصوم آنکھوں........

© Daily Urdu