Khud Mukhtari: Khwab, Nara Ya Ikhtiar?
خودمختاری: خواب، نعرہ یا اختیار؟
خودمختاری اب ہمارے ہاں ایک سیاسی اصطلاح سے زیادہ ایک دلکش نعرہ بن چکی ہے، ایسا نعرہ جو ہر جلسے میں گونجتا ہے مگر گلی محلوں تک پہنچتے پہنچتے اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ سیاست دان جب خوابوں کی تعبیر کے فلسفے بیان کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بس ایک قدم اور بڑھائیں تو عوامی اختیار کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں خواب در خواب کا سلسلہ ہے، ایک خواب کی تعبیر مانگیں تو بدلے میں دوسرا خواب تھما دیا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں خودمختاری کا مفہوم عوامی اختیار نہیں بلکہ اختیارات کا ارتکاز بن چکا ہے۔ اشرافیہ، بیوروکریسی اور سیاست دانوں پر مشتمل وہ "ایلیٹ ٹرائی اینگل" جس کا ذکر اکثر ہوتا ہے، عملاً اختیار کی کنجی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔ اگر جمہوریت واقعی "عوام کی، عوام کے ذریعے، عوام کیلئے" ہوتی تو بلدیاتی انتخابات برسوں معطل نہ رہتے، دفعہ 140-اے محض کتابی حوالہ نہ بنتی اور سپریم کورٹ کے احکامات تاخیری حربوں کی نذر نہ ہوتے۔
دنیا کی کامیاب جمہوریتوں کو دیکھ لیجیے۔ سوئٹزرلینڈ میں براہ راست جمہوریت، ناروے اور ڈنمارک میں بلدیاتی اداروں کے پاس تعلیم و صحت کے اختیارات، سویڈن اور فن لینڈ میں مقامی حکومتوں کا مضبوط ڈھانچہ، جرمنی کے آئین میں بنیادی جمہوریت کا تحفظ، یہ سب ماڈلز اس بات کا ثبوت ہیں کہ اختیار نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر ریاست مضبوط نہیں ہوتی۔ وہاں مئیرز معاشی ترقی کے اہداف طے کرتے ہیں، مقامی کونسلیں ٹیکس جمع کرتی اور خرچ کرتی ہیں، شہری منصوبہ بندی اور ماحولیات کی ذمہ داری مقامی حکومتوں پر ہوتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے خواب مختلف ہیں؟ نہیں۔ فرق صرف نیت اور ترجیح کا ہے۔ یہاں اختیار ایک اے سی یا ڈی سی کے دفتر میں مرتکز رہتا ہے، یا پھر ایم پی ایز کے فنڈز اور ترقیاتی اسکیموں کے گرد گھومتا ہے۔ صوبائی خودمختاری 18ویں ترمیم کے بعد ایک حقیقت تو بنی، مگر وہ نچلی سطح تک منتقل نہ ہو سکی۔ نتیجہ یہ کہ صوبے مضبوط ہوئے، مگر شہر اور دیہات کمزور ہی رہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ ماضی کے ادوار میں، چاہے وہ فوجی حکومتیں تھیں، بلدیاتی نظام متعارف کرائے گئے۔ 1959ء کا بیسک ڈیموکریسی نظام، 1979ء کا لوکل گورنمنٹ آرڈیننس اور 2001ء کا نظام جس نے نچلی سطح تک اختیارات منتقل کیے، یہ سب مثالیں موجود ہیں۔ بحث اس پر ہو سکتی ہے کہ ان نظاموں کے پس منظر کیا تھے، مگر ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ مقامی حکومتوں کو اختیار ملنے سے انتظامی بہتری آئی۔
آج اگر پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے تحت اپر ٹیئر لوکل گورنمنٹس کو مالی و انتظامی اختیارات دینے کی خبریں ہیں تو یہ خوش آئند ضرور ہیں، مگر اصل امتحان انتخابات کے انعقاد اور مستقل مزاجی کا ہے۔ 2019ء سے قوانین کی مسلسل تبدیلی اور سیاسی مصلحتوں نے اس عمل کو غیر یقینی بنا رکھا ہے۔ جب تک اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح تک حقیقی منتقلی نہیں ہوگی، خودمختاری کا خواب محض نعرہ ہی رہے گا۔
جمہوریت کی روح صرف پارلیمان میں نہیں، بلکہ یونین کونسل کے دفتر میں بھی سانس لیتی ہے۔ گلی کی صفائی، پانی کی فراہمی، مقامی اسکول اور بنیادی صحت مرکز، یہ وہ مسائل ہیں جن کا حل مرکزی یا صوبائی دارالحکومت میں نہیں بلکہ مقامی سطح پر ممکن ہے۔ اگر ہم واقعی خودمختاری چاہتے ہیں تو اسے نچلی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔
ورنہ ہوتا یہی رہے گا کہ خوابوں کے سوداگر تعبیر کا وعدہ کرتے رہیں گے اور عوام خواب در خواب کے اس سلسلے میں الجھے رہیں گے۔ خودمختاری تب ہی حقیقت بنے گی جب اختیار عوام کے منتخب نمائندوں تک پہنچے گا اور وہ نمائندے جوابدہ بھی ہوں گے۔
عمل کے بغیر خواب صرف خواب رہتے ہیں اور قومیں خوابوں سے نہیں، اختیارات کی منصفانہ تقسیم سے مضبوط ہوتی ہیں۔
