menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khud Mukhtari: Khwab, Nara Ya Ikhtiar?

30 0
06.03.2026

خودمختاری: خواب، نعرہ یا اختیار؟

خودمختاری اب ہمارے ہاں ایک سیاسی اصطلاح سے زیادہ ایک دلکش نعرہ بن چکی ہے، ایسا نعرہ جو ہر جلسے میں گونجتا ہے مگر گلی محلوں تک پہنچتے پہنچتے اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ سیاست دان جب خوابوں کی تعبیر کے فلسفے بیان کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بس ایک قدم اور بڑھائیں تو عوامی اختیار کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں خواب در خواب کا سلسلہ ہے، ایک خواب کی تعبیر مانگیں تو بدلے میں دوسرا خواب تھما دیا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں خودمختاری کا مفہوم عوامی اختیار نہیں بلکہ اختیارات کا ارتکاز بن چکا ہے۔ اشرافیہ، بیوروکریسی اور سیاست دانوں پر مشتمل وہ "ایلیٹ ٹرائی اینگل" جس کا ذکر اکثر ہوتا ہے، عملاً اختیار کی کنجی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہے۔ اگر جمہوریت واقعی "عوام کی، عوام کے ذریعے، عوام کیلئے" ہوتی تو بلدیاتی انتخابات برسوں........

© Daily Urdu