Mohsin Naqvi Ka Eteraf
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز فرمایا کہ "جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں وہ گر چکا ہے، اسے ری سیٹ کرنا ہوگا"۔
یہ بیان دیکھتے ہی مجھے یوں محسوس ہوا جیسے محسن نقوی میں یا تو مظلوموں اور نظام کے ستائے ہوئے لوگوں کی روح حلول کر گئی ہو اور یا پھر وہ برسوں سے دل میں چھپائی ہوئی بات زبان پر لے آئے ہوں۔ دوسری بات زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے کیونکہ جب ہم محسن نقوی کو نادرا، پاسپورٹ آفس اور دیگر سرکاری اداروں کے دوروں کے دوران عوام کے مسائل سنتے اور ان کے چہرے پر نمودار ہوتے پریشاں قسم کے تاثرات دیکھتے ہیں تو بے اختیار پروین شاکر کی یہ نظم یاد آ جاتی ہے:
میرا نام لے رہی ہیں میں کواڑ کیسے کھولوں
کہ میرے دونوں ہاتھ پشت کی جانب بندھے ہوئے ہیں
اگر بغور جائزہ لیا جائے تو محسن نقوی نے یہ بیان دے کر برسوں سے روزگار کے لیے........
