Sadar Trump Se 10 Sawal
امریکہ کے صدر ڈو نلڈٹرمپ کے روئیے اور اقدامات کے بارے پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی اور بلاشبہ امریکہ کے عوام نے انہیں صدر منتخب کرکے ایک بڑا جوا کھیلا ہے۔ وہ یہ جوا جیت بھی سکتے ہیں اور ہار بھی سکتے ہیں۔ وہ اس وقت اپنی تضاد بیانی کی انتہا پر ہیں یعنی وہ امن کے نوبل انعام کے امیدوار بھی بنتے ہیں اور وینزویلا کے صدر کو اغوا بھی کرتے ہیں اور نتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ بھی کرتے ہیں۔
عوامی مقبولیت کے اس وقت کے ابتدائی سروے بتاتے ہیں کہ وہ پہلے ہی منفی مقبولیت (یعنی چالیس فیصد) پر تھے مگر ایران پر حملے نے ان کی امریکی شہریوں میں مقبولیت مزید کم کر دی ہے۔ سرویز کے مطابق صرف پچیس سے ستائیس فیصد امریکی ایران پر حملوں کے حامی ہیں جبکہ ساٹھ فیصد نے اس پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ اگرچہ امریکی سینیٹ نے اس قرارداد کو مسترد کر دیا ہے جو حملوں کے بعد ٹرمپ پر دباو بڑھاتی مگر دوسری طرف ڈیموکریٹ سینٹرز نے سینیٹ کو دی جانے والی بریفنگ کے بعد کچھ اہم سوالات بھی اٹھا دئیے ہیں۔ ان سے بطور صحافی اور تجزیہ کار میرے بھی کچھ سوال ہیں اور ان میں سے دو سوال میں نے امریکی سینیٹ کے ارکان سے لئے ہیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ تیزی کے ساتھ اور بار بار ایران پر حملے کے جواز کو کیوں تبدیل کر رہے ہیں۔ ان کا موقف تھا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے اور اس کے بعد وہ میزائل ٹیکنالوجی کی طرف آ گئے۔ انہوں نے یہ بودا اور غیر حقیقی موقف بھی اختیار کیا ہے کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ نہ کرتا تو ایران امریکہ پر حملہ کر دیتا جبکہ........
