menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Parwasi

20 0
01.04.2026

دو مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، لسانی رویّوں اور فکری مزاجوں کو یکجا کرنا محض لسانی مشق نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور فنی عمل ہے، جس میں مترجم کو نہ صرف زبان بلکہ تہذیبی شعور کا بھی گہرا ادراک ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے حمزہ حسن شیخ نے اپنی ترجمہ نگاری کے ذریعے جس مہارت اور فنی بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ انہوں نے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے متنوع رنگوں، بالخصوص پنجابی زبان کی لطافت کو اردو کے سانچے میں اس خوبی سے ڈھالا ہے کہ قاری اصل متن کی روح سے جڑا محسوس ہوتا ہے۔

اسی طرح دوسری جانب فارسی زبان اور ایرانی........

© Daily Urdu