menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bilawal Ke Teer Kis Taraf?

1 0
latest

سیاست میں مستقل دوست ہوتے ہیں نہ مستقل دشمن، صرف مستقل مفادات ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کل جو جماعتیں ایک دوسرے کو جمہوریت کا دشمن قرار دے رہی تھیں، آج ایک ہی میز پر بیٹھی نظر آتی ہیں اور جو آج ایک دوسرے کی حکومت بچا رہی ہیں، وہی کل جلسوں میں ایک دوسرے پر سخت ترین الزامات عائد کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اس لیے جب بھی کوئی بڑا سیاسی رہنما اچانک اپنے بیانیے میں تبدیلی لاتا ہے تو سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ اس نے کیا کہا، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس نے یہ بات اس وقت کیوں کہی؟

آزاد کشمیر کے انتخابات کے پہلے مرحلے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر "فارم 47" کا بیانیہ دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں دھاندلی کے ذریعے حکومت بنائی گئی اور اگر آزاد کشمیر میں بھی یہی کچھ ہوا تو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے مسلم لیگ ن کا مفاد عزیز ہے یا ملک کا مفاد۔

یہ بیانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان کا سیاسی پس منظر اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک تاثر یہ رہا ہے کہ آزاد کشمیر میں اکثر وہی جماعت مضبوط پوزیشن میں آتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہو۔ اسی لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ بلاول بھٹو کے حالیہ بیانات انتخابی نتائج کا ردِعمل ہیں یا وفاقی سیاست میں اپنی جماعت کی سیاسی حیثیت مضبوط کرنے کی ایک حکمتِ عملی؟

پیپلز پارٹی اس وقت وفاقی حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اپنی الگ سیاسی شناخت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ ایک طرف حکومت کے اہم آئینی عہدوں میں اس کی شراکت موجود ہے، جبکہ دوسری طرف وہ عوامی سطح پر مسلم لیگ (ن) سے فاصلہ بھی دکھانا چاہتی ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں یہ........

© Daily Urdu